top of page

THE READERS HUB

"هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ" لباس.....

  • Farhat Yasir
  • Jul 1
  • 11 min read

Updated: Jul 6




وہ وقت کا میرا ایک بہترین تحفہ ہے۔وہ پل بھی ہے، وہ احساس بھی ہے، ایک خوبصورت سا راز بھی ہے جو میرے دل

میں ہمیشہ محفوظ ہے۔ وہ ایک چھپا ہوا، حسین لمحہ ہے جس کے احساس سے میری زندگی خوشگوار محسوس ہوتی ہے۔

کہتے ہیں محبت ایک بار ہوتی ہے اور پیار بار بار ہو جاتا ہے، لیکن میں یہ کہتی ہوں کہ محبت دوبارہ بھی ہو سکتی ہے، مگر عشق صرف ایک بار ہوتا ہے۔ جب عشق ہو جائے تو پھر جسم، روح، دل اور دھڑکن سب ایک ہو جاتے ہیں۔ عشق وہ کیفیت ہے جس میں اگر روح نکلے تو اسی کے ساتھ جان بھی نکلتی محسوس ہوتی ہے۔

نہ محبت کی کوئی عمر ہوتی ہے، نہ عشق کسی وقت یا موسم کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ نہ رنگ دیکھتا ہے، نہ روپ، نہ نسل، نہ حیثیت اور نہ ہی دولت۔ یہ تو بس ہو جاتا ہے، بے اختیار۔

اصل بات محبت یا عشق کی نہیں، بلکہ احساس کی ہے۔ وہ احساس جو صرف ایک خاص انسان کے لیے پیدا ہوتا ہے، جو کسی اور کے لیے ویسا کبھی نہیں ہوتا۔ یہی احساس انسان کی سانسوں کو کسی ایک وجود سے باندھ دیتا ہے۔

لیکن ایک حقیقت سب سے زیادہ اہم ہے، اور وہ ہے مخلصی۔ اگر محبت میں مخلصی نہ ہو تو وہ صرف دل لگی رہ جاتی ہے۔ دل بہلانے والے تو بہت مل جاتے ہیں، مگر احساس اور مخلصی رکھنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔

لہجے میں نرمی نہ ہو تو روح کو محبت کی تاثیر نہیں ملتی۔ محبت اس درخت کی شاخ کی مانند ہونی چاہیے جو ہمیشہ سرسبز بھی رہتی ہے اور نرم و لچک دار بھی۔ موسم گرم ہو یا سرد، آندھی آئے یا برف باری، وہ شاخ اپنے مضبوط درخت کا ساتھ نہیں چھوڑتی بلکہ ہر حال میں اس کے ساتھ جڑی رہتی ہے۔

بالکل اسی طرح میاں بیوی کا رشتہ بھی ہے۔ یہ دنیا کا سب سے خوبصورت اور عظیم رشتہ ہے، جس میں محبت بھی ممکن ہے اور عشق بھی۔

اگر شوہر ایک مضبوط درخت ہے تو بیوی اس کی سرسبز، نرم اور وفادار شاخ ہے، جو اپنے احساس، محبت، احترام اور ساتھ سے اس درخت کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ اسے اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ حالات کیسے ہیں، وقت کیسا ہے یا موسم کیسا ہے۔ وہ ہر حال میں اپنے شریکِ حیات کا ساتھ نبھاتی ہے۔

اور جب شوہر بھی اسی محبت، عزت اور خلوص کے ساتھ اس رشتے کو سنبھالتا ہے تو یہ درخت مزید پھلتا پھولتا ہے۔ یہی دونوں کی مخلصی، اعتماد اور احساسات ہیں جو انہیں زندگی کا بہترین ہمسفر بنا دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے بھی میاں بیوی کے رشتے کو قرآنِ کریم میں نہایت خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے کہ:

"هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ"

"وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔" (سورۃ البقرہ: 187)

لباس صرف جسم کو نہیں ڈھانپتا بلکہ عزت، سکون، حفاظت، قربت اور محبت کی علامت بھی ہوتا ہے۔ اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے رشتے کی پوری حقیقت بیان کر دی ہے۔ گویا دو جسم ضرور ہیں، مگر دل، احساس اور مقصد ایک ہو جاتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں اکثر رشتے صرف ذمہ داریوں، خرچ اور دنیاوی تقاضوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ محبت کے الفاظ تو موجود ہیں، مگر احساس کم ہوتا جا رہا ہے۔ خلوص کی جگہ انا نے لے لی ہے اور قربت کی جگہ فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔

حالانکہ ایک خوبصورت ازدواجی زندگی صرف نان و نفقہ سے نہیں چلتی، بلکہ احساس، احترام، اعتماد، مخلصی، نرم لہجے اور ایک دوسرے کے دل کو سمجھنے سے قائم رہتی ہے۔

کیونکہ جب احساس زندہ رہتا ہے، تو محبت کبھی نہیں مرتی۔

بتمامِ دل اپنے شریکِ حیات کے نام
بتمامِ دل اپنے شریکِ حیات کے نام

میرا یہاں خواتین سے ایک سوال ہے


میرا یہاں خواتین سے ایک سوال ہے۔

میں یہ بات مانتی ہوں کہ بعض اوقات شریکِ حیات کی طرف سے وہ توجہ، ذمہ داری یا تعاون نہیں ملتا جس کی ایک بیوی حق دار ہوتی ہے۔ صرف محبت کے دعووں سے خالی پیٹ نہیں بھرتا، اور ہمارے معاشرے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ "شوہر کے دل کا راستہ اس کے پیٹ سے ہو کر گزرتا ہے۔" اس بات میں بھی اپنی جگہ حقیقت موجود ہے۔

لیکن آج میں بات اس شوہر کی کرنا چاہتی ہوں جو اپنی بیوی سے بے پناہ محبت کرتا ہے، اس کی عزت کرتا ہے، اس کے احساسات کا خیال رکھتا ہے، اور پوری کوشش کرتا ہے کہ اسے ہر ممکن آسائش فراہم کرے، مگر حالات، روزگار یا مالی مشکلات اس کا ساتھ نہیں دیتے۔

میری تحقیق کے مطابق تقریباً 70 فیصد خواتین اپنے شوہر کی مخلص محبت کا جواب محبت سے نہیں دیتیں۔ صرف اس لیے کہ وہ مالی طور پر ان کی ہر خواہش پوری نہیں کر پاتا، وہ اسے طعنے دیتی ہیں، اس سے دوری اختیار کر لیتی ہیں، اور نان و نفقہ کو بنیاد بنا کر اسے خود اپنی نظروں میں بھی گرا دیتی ہیں۔

لیکن کیوں؟


کیا کبھی ہم نے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ وہ شخص سارا دن دھوپ میں، گرد و غبار میں، تھکن اور پریشانیوں سے لڑتے ہوئے صرف اپنے گھر، اپنی بیوی اور اپنے بچوں کے لیے محنت کرتا رہا؟

کیا ہمیں صرف اس کے خالی ہاتھ نظر آتے ہیں؟

کیا اس کے ہاتھوں کی تھکن، پیشانی کا پسینہ، اس کی بے بسی اور وہ محبت نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے وہ ہر روز دوبارہ ہمت کر کے گھر لوٹتا ہے؟

جب وہ شام کو گھر واپس آتا ہے تو اسے سب سے زیادہ ضرورت اپنی بیوی کے حوصلے، محبت اور ساتھ کی ہوتی ہے۔

اگر دروازہ کھلتے ہی اس کے استقبال میں یہ جملہ سننے کو ملے:

"آج بھی خالی ہاتھ آئے ہو؟"

تو یقین مانیں، یہ الفاظ اس کے دل پر اس بوجھ سے بھی زیادہ بھاری ہوتے ہیں جو وہ سارا دن اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتا ہے۔

وہ خالی ہاتھ نہیں آیا ہوتا...

وہ امید لے کر آیا ہوتا ہے۔

امید کہ شاید آج اس کی بیوی اسے ایک مسکراہٹ دے گی۔

امید کہ شاید کوئی اس کی تھکن کو محسوس کرے گا۔

امید کہ کوئی اس کے ماتھے کا پسینہ دیکھ کر کہے گا:

"آپ نے بہت محنت کی ہے، اللہ آپ کی محنت میں برکت دے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔"

یاد رکھیے، مرد صرف روٹی کمانے والی مشین نہیں ہوتا۔ اس کا بھی ایک دل ہوتا ہے، اس کے بھی احساسات ہوتے ہیں، وہ بھی ٹوٹتا ہے، وہ بھی تھکتا ہے، اور اسے بھی محبت، عزت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر شوہر اپنی استطاعت کے مطابق پوری دیانت داری سے کوشش کر رہا ہے، اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نہیں رہا، اپنی بیوی اور بچوں کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے، تو اس کی مالی کمزوری کو اس کی محبت کی کمزوری نہ سمجھیں۔

کبھی کبھی ایک مسکراہٹ، ایک دعا، ایک حوصلہ افزا جملہ اور ایک پُرخلوص ساتھ ایسے زخم بھر دیتے ہیں جو دنیا کی کوئی دولت نہیں بھر سکتی۔

کیونکہ ایک مضبوط گھر صرف پیسوں سے نہیں بنتا...

بلکہ احساس، محبت، احترام، اعتماد اور ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے سے بنتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے رشتے کو محبت، رحمت اور سکون کا ذریعہ بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں شوہر اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے، حسنِ سلوک اختیار کرنے اور ایک دوسرے کے لیے باعثِ سکون بننے کی تلقین کی گئی ہے۔

جب شوہر دن بھر کی محنت اور تھکن کے بعد گھر واپس آئے تو بیوی کا مسکرا کر اس کا استقبال کرنا، سلام کرنا، اس کی خیریت پوچھنا اور اسے عزت دینا محبت اور حسنِ معاشرت کا خوبصورت انداز ہے۔ ایسے چھوٹے چھوٹے رویے ایک تھکے ہوئے انسان کے لیے بہت بڑا سہارا بن جاتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے شوہر اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ ایک مشہور حدیث میں آتا ہے:

"اگر میں کسی کو اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔"

یہ حدیث شوہر کے عظیم حق اور اس کے مقام کو بیان کرنے کے لیے ہے، کیونکہ سجدہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے جائز ہے۔

اسلامی تعلیمات میں اس موضوع پر بہت سی احادیث موجود ہیں، لیکن میں ان کی تفصیل میں نہیں جاؤں گی۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ وہ خواتین جو اپنے شریکِ حیات کو وہ عزت، محبت، احترام اور مقام نہیں دیتیں جس کے وہ حق دار ہیں، بلکہ ہر وقت طعنوں، شکایتوں اور تحقیر سے ان کے دل کو زخمی کرتی رہتی ہیں، وہ صرف اپنے شوہر ہی کو نہیں بلکہ اپنے پورے گھر کے سکون، اپنی اولاد کی تربیت اور اپنے خاندانی شجر کو بھی نقصان پہنچا رہی ہوتی ہیں۔

محبت وہاں پروان چڑھتی ہے جہاں صبر، عاجزی، انکساری، احترام اور مخلصی ہو۔ اگر رشتے میں ہر وقت شکایت، ناشکری اور موازنہ ہی رہے تو دلوں کے درمیان فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں۔

آخر کیوں...؟

کیا ہمیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں؟

کیا ہمیں اس کی تقسیم پر یقین نہیں؟

کیا ہمارا توکل کمزور ہو گیا ہے؟

یاد رکھیے، رزق صرف انسان کی محنت سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ملتا ہے۔ انسان کوشش کرتا ہے، مگر دینے والا اللہ ہے۔ اگر شوہر اپنی استطاعت کے مطابق دیانت داری سے کوشش کر رہا ہے تو اس کا حوصلہ بڑھائیے، اس کے لیے دعا کیجیے، اس کا سہارا بنیے، نہ کہ اس کی کمزوری کو اس کے خلاف ہتھیار بنائیے۔

ہوسکتا ہے آج اس کے ہاتھ خالی ہوں، مگر اگر اس کے دل میں اپنے گھر والوں کے لیے محبت، ذمہ داری اور اخلاص موجود ہے تو یقین رکھیں، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی محنت کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔

توکل، صبر اور شکر وہ نعمتیں ہیں جو مشکل ترین حالات کو بھی آسان بنا دیتی ہیں، اور یہی صفات ایک گھر کو جنت کا نمونہ بنا دیتی ہیں۔


چلیے، لباس تو دونوں ہوئے نا... میاں بھی اور بیوی بھی۔

اب ذرا بات کرتے ہیں خاوند کی۔

میرے محترم مرد حضرات سے بھی ایک سوال ہے۔



جب آپ اپنی بیوی کو وہ عزت، وہ مقام، وہ توجہ اور وہ محبت نہیں دیتے جس کی وہ حق دار ہے، تو آخر کیوں؟

اکثر مردوں سے ایک ہی جواب سننے کو ملتا ہے:

"بیوی پسند نہیں تھی۔"

لیکن میرا سوال یہ ہے کہ...

کیوں پسند نہیں تھی؟

کبھی ذرا غور سے اس عورت کی طرف دیکھیے جو آپ کے نکاح میں ہے۔ وہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے آپ کی زندگی میں آئی ہے۔ وہ آپ کے نام کی چادر اوڑھے، اپنی پہچان، اپنے ماں باپ کا گھر اور اپنی پرانی زندگی چھوڑ کر صرف آپ کے ساتھ ایک نئی دنیا بسانے آئی تھی۔

پھر ایسا کیا ہوا کہ وہ آپ کو پسند ہی نہ رہی؟

وہ خاموشی سے آپ کی سخت باتیں سہتی ہے، آپ کی بے توجہی برداشت کرتی ہے، کبھی آپ کے غصے کا نشانہ بنتی ہے، کبھی آپ کی خاموشی کا۔ پھر بھی وہ گھر سنبھالتی ہے، بچوں کی پرورش کرتی ہے، آپ کے والدین کا احترام کرتی ہے اور اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔

کیوں؟

کیونکہ اکثر اوقات وہ اس رشتے کے ساتھ مخلص ہوتی ہے۔

مگر افسوس، ہر مرد اس مخلصی کی قدر نہیں کرتا۔

پھر بہانے شروع ہو جاتے ہیں۔

"نصیب خراب تھا۔"

"جانے انجانے میں شادی ہو گئی۔"

"ہماری بنتی نہیں۔"

"مائنڈ میچ نہیں کرتا۔"

یہ جملے کبھی مردوں کی زبان سے سننے کو ملتے ہیں اور کبھی خواتین کی طرف سے بھی۔

لیکن کیا صرف یہی وجہ کافی ہے کہ ایک انسان کو اس کا حق، اس کی عزت اور اس کی محبت نہ دی جائے؟

نکاح صرف دو پسندیدہ لوگوں کا ساتھ نہیں، بلکہ دو انسانوں کی ذمہ داری، اعتماد، صبر اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کا نام ہے۔

ہر انسان میں خامیاں ہوتی ہیں۔ نہ شوہر کامل ہے، نہ بیوی۔ اگر صرف خامیاں دیکھ کر رشتے نبھائے جاتے تو شاید دنیا میں کوئی گھر آباد نہ رہتا۔

اصل خوبصورتی یہ ہے کہ انسان اپنے شریکِ حیات کی خوبیوں کو تلاش کرے، اس کی کمزوریوں پر پردہ ڈالے، اس کا ہاتھ تھامے اور اسے بہتر بنانے میں اس کا ساتھ دے۔

اگر اللہ تعالیٰ نے آپ دونوں کو ایک دوسرے کے لیے منتخب کیا ہے تو یقیناً اس میں کوئی حکمت ہے۔ ہر اختلاف، ہر آزمائش اور ہر مشکل کا حل بے رخی یا بے عزتی نہیں، بلکہ محبت، مکالمہ، صبر اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش ہے۔

یاد رکھیے...

عزت صرف عورت کا حق نہیں، مرد کا بھی حق ہے۔

اور محبت صرف مرد کی ضرورت نہیں، عورت کی بھی ضرورت ہے۔

جب دونوں ایک دوسرے کو اللہ کی امانت سمجھ کر نبھاتے ہیں، تبھی گھر جنت کا نمونہ بنتا ہے۔ اور جب دونوں ایک دوسرے کو صرف تنقید، شکایت اور بے قدری دیتے ہیں تو سب سے پہلے محبت مر جاتی ہے، پھر اعتماد، اور آخرکار رشتہ صرف ایک بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے شریکِ حیات کی قدر کرنے، ان کے حقوق ادا کرنے اور محبت، رحمت اور مخلصی کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


وجوہات کی بنیاد پر شادیاں نہیں نبھتیں، بلکہ محبت، احساس اور مخلصی کی بنیاد پر نبھتی ہیں۔

اسلام نے شوہر کے بیوی پر اور بیوی کے شوہر پر حقوق مقرر کیے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے پر سو فیصد حق رکھتے ہیں، لیکن یہ حق ایک دوسرے کو ذلیل کرنے، طعنے دینے یا بے عزت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ محبت کرنے، عزت دینے، احساس کرنے، ایک دوسرے کا سہارا بننے اور ایک دوسرے سے عشق کرنے کے لیے ہیں۔

ہمیں اپنے اندر صبر، عاجزی، انکساری اور مخلصی پیدا کرنی چاہیے۔ رشتے انا سے نہیں، بلکہ جھکنے سے مضبوط ہوتے ہیں۔

ایک اور بات...

صرف بیوی ہی کیوں ہر وقت تیار ہو، سجے سنورے اور اپنے شوہر کو خوش کرنے کی کوشش کرے؟

شوہر بھی اپنی بیوی کے لیے خود کو سنوارے، خوش اخلاقی اختیار کرے، صاف ستھرا رہے اور اپنی شخصیت کا خیال رکھے۔

جس طرح ایک عورت کو اپنے شوہر پر فخر ہوتا ہے، اسی طرح ایک شوہر کو بھی اپنی بیوی پر فخر ہونا چاہیے۔

اور میری پیاری بہنو!

آپ شہزادی ہیں۔

کبھی یہ مت سوچیے کہ عورت کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ یہ بات درست نہیں۔

پہلے آپ اپنے والدین کے گھر کی رونق ہوتی ہیں، اور پھر اپنے شوہر کے گھر کی ملکہ بنتی ہیں۔ وہ گھر صرف آپ کے شوہر کا نہیں، آپ کا بھی گھر ہے۔ آپ اس گھر کی عزت، سکون اور برکت ہیں۔ خود کو اس گھر کی مہمان نہیں بلکہ اس کی ذمہ دار اور ملکہ سمجھیں۔

اور میرے محترم بھائیو!

یاد رکھیے، گھر صرف دیواروں سے نہیں بنتا، عورت کے سکون اور مرد کی ذمہ داری سے بنتا ہے۔

جب میاں بیوی ایک دوسرے کے دوست بن جائیں، ایک دوسرے کے رازدار بن جائیں، ایک دوسرے سے مخلص ہو جائیں، تو پھر زندگی بدل جاتی ہے۔

ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے، کبھی ایک کپ چائے ساتھ بیٹھ کر پیجیے۔

ایک دوسرے کی تعریف کیجیے۔

ایک دوسرے کا شکریہ ادا کیجیے۔

ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی کوششوں کو سراہئیے۔

مسکرائیے، ہنسیے، باتیں کیجیے، اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریے۔

یقین جانیے...

پھر ایک روٹی میں بھی اتنی برکت ہوگی کہ آپ کو کبھی کمی محسوس نہیں ہوگی۔

گھر جنت اس لیے نہیں بنتا کہ وہاں دولت بہت ہو، بلکہ اس لیے بنتا ہے کہ وہاں محبت، احترام، اعتماد اور احساس بہت ہو۔

حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ زمین پر آنے والے پہلے میاں بیوی تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک میاں بیوی کا رشتہ کس قدر عظیم، مقدس اور محبوب ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے سکون، رحمت اور محبت کا ذریعہ بنایا۔

آخر میں میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہر میاں بیوی کے درمیان محبت، اعتماد، صبر، مخلصی اور رحمت پیدا فرمائے، اور ہر گھر کو سکون کا گہوارہ بنا دے۔ آمین۔

امید ہے آپ کو میرا یہ مضمون پسند آیا ہوگا۔ اگر اس تحریر نے آپ کے دل کو چھوا ہو تو اپنی رائے ضرور دیجیے اور اسے دوسروں تک بھی پہنچائیے۔ میری دلی خواہش ہے کہ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد جو رشتے ٹوٹنے کے قریب ہیں، جو دل بکھر چکے ہیں، وہ دوبارہ جڑ جائیں، اور ہر گھر محبت، احساس اور رحمت سے بھر جائے۔

شکریہ۔


لباسِ محبت"

محبت فقط اک لفظ نہیں، اک زندہ سا احساس بھی ہے،یہ دل کی دھڑکن، روح کی راحت، رب کا اک انعام بھی ہے۔

نہ سونے چاندی سے گھر بنتے، نہ دولت سے رشتے جیتے ہیں،دو میٹھے بول، دو نرم لہجے، صدیوں تک دل میں رہتے ہیں۔

وہ شوہر جو دن بھر تھکتا ہے، دھوپ میں خود کو جلاتا ہے،اک مسکان کی چاہ لیے وہ شام ڈھلے گھر آتا ہے۔

وہ بیوی جو چپ رہ جاتی ہے، ہر درد دل میں سہتی ہے،اپنوں کی خاطر اپنی خواہش، خاموشی سے کہتی ہے۔

نہ طعنہ دو، نہ دل توڑو، نہ لفظوں سے زخم لگاؤ تم،اک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر، ہر مشکل سے گزر جاؤ تم۔

وہ ایک کپ چائے ساتھ پینا، وہ ہنس کر حال پوچھ لینا،یہی تو عشق کی دولت ہے، یہی ہے رشتہ جی لینا۔

نہ شوہر بادشاہ اکیلا، نہ بیوی تنہا رانی ہے،دونوں مل جائیں جب اخلاص سے، تب گھر کی اصل کہانی ہے۔

قرآن نے بھی یہ بات کہی، تم دونوں اک لباس ہو،اک دوسرے کی عزت، پردہ، سکون اور اک احساس ہو۔

جب صبر، وفا اور شکر ملیں، رحمت خود آنگن آتی ہے،اک روٹی میں بھی برکت کی خوشبو ہر سو چھا جاتی ہے۔

اے رب! ہر گھر کو یہ نعمت دے، ہر دل میں خلوص اتار دے،جو رشتے بکھرے بیٹھے ہیں، ان سب کو پھر سے جوڑ دے۔

ہر بیوی کو عزت نصیب ہو، ہر شوہر کو پیار ملے،ہر گھر میں رحمت ایسی اترے، جیسے جنت کا دیار ملے۔

آمین یا رب العالمین۔ 🌹

Comments


bottom of page