top of page

THE READERS HUB

جدید دور کے چیلنجز اور اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ان کا حلانسان نے اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی، سائنس اور مادی ترقی کی مہم جوئی میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

  • Farhat Yasir
  • Jul 6
  • 6 min read






۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں فاصلے سمٹ چکے ہیں، معلومات کا سیلاب ہے، اور زندگی بظاہر بے حد آسان ہو چکی ہے۔ لیکن اس چمک دمک اور مادی آسائشوں کے پیچھے ایک ہولناک سچائی یہ بھی ہے کہ آج کا انسان اندرونی طور پر شدید بے چینی، اخلاقی پستی، اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔ معاشرتی بگاڑ، رشتوں کی پامالی، اور خود غرضی نے انسانیت کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ سکون کی تلاش میں بھٹک رہی ہے۔


ایک مسلمان ہونے کے ناطے، ہمارے پاس اس تمام تر اندھیرے اور انتشار سے نکلنے کا ایک ہی واضع راستہ ہے، اور وہ ہے قرآن مجید کی تعلیمات اور حضور پاک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا اسوۂ حسنہ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:


"بیشک تمہارے لیے اللہ کے رسول (ﷺ کی ذات) میں بہترین نمونہ ہے۔" (سورۃ الاحزاب: 21)


آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ آج کے دور کے بڑے چیلنجز کیا ہیں اور سیرتِ طیبہ کی روشنی میں ہم ان کا حل کیسے تلاش کر سکتے ہیں۔


1. اخلاقی انحطاط اور سوشل میڈیا کے اثرات

آج کا سب سے بڑا چیلنج اخلاقی اقدار کا زوال ہے۔ سوشل میڈیا کے بے لگام استعمال نے جہاں رابطے آسان کیے، وہاں غیبت، چغلی، حسد، نمائش اور دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے کو ایک عام تفریح بنا دیا ہے۔ سچ اور جھوٹ کا فرق مٹتا جا رہا ہے اور "فیک نیوز" (جھوٹی خبروں) کے ذریعے معاشرے میں نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔


اسوۂ حسنہ سے حل:

حضورِ اکرم ﷺ کی زندگی کا سب سے پہلا تعارف ہی "صادق اور امین" (سچا اور امانت دار) تھا۔ آپ ﷺ نے اعلانِ نبوت سے پہلے ہی معاشرے میں اپنی سچائی کا لوہا منوایا۔


سوشل میڈیا کا ضابطہ اخلاق: قرآن پاک نے ہمیں واضح حکم دیا کہ جب تمہارے پاس کوئی خبر آئے تو پہلے اس کی تصدیق کر لو (سورۃ الحجرات)۔


زبان کی حفاظت: آپ ﷺ نے فرمایا: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" اگر ہم سوشل میڈیا پر کچھ بھی لکھنے یا شیئر کرنے سے پہلے اس حدیث کو معیار بنا لیں، تو معاشرے سے آدھے سے زیادہ فتنہ ختم ہو جائے۔


2. معاشی عدم مساوات، سود اور مادیت پرستی

آج کی دنیا سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے میں ہے، جہاں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہر شخص راتوں رات امیر بننے کی دوڑ میں اندھا ہو چکا ہے۔ اس چکر میں حلال اور حرام کی تمیز ختم ہو رہی ہے، سود (Interest) کو معیشت کی مجبوری بنا دیا گیا ہے اور ذخیرہ اندوزی و ملاوٹ عام ہو چکی ہے۔


اسوۂ حسنہ سے حل:

نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں تشریف لاتے ہی ایک ایسا معاشی نظام قائم کیا جو انصاف اور ہمدردی پر مبنی تھا۔


مواخاتِ مدینہ: آپ ﷺ نے انصار اور مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کر کے دنیا کی تاریخ میں اشتراکِ رزق کی سب سے بہترین مثال قائم کی جہاں ایک بھائی نے اپنے دوسرے بھائی کے لیے اپنی آدھی جائیداد وقف کر دی۔


سود اور حرام کی ممانعت: خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے سود کو پیروں تلے روندا اور اسے مکمل حرام قرار دیا۔


امانت داری اور تجارت: آپ ﷺ خود ایک کامیاب تاجر تھے اور آپ نے فرمایا کہ "سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء اور صدیقین کے ساتھ ہوگا۔" اگر آج کا تاجر ناپ تول میں کمی اور ملاوٹ چھوڑ دے، تو معاشی برکتیں لوٹ آئیں گی۔


3. نفسیاتی مسائل: ڈپریشن، اضطراب اور شکر گزاری کی کمی

مادی اشیاء کی کثرت کے باوجود آج کا انسان سب سے زیادہ اداس اور ذہنی تناؤ (Depression) کا شکار ہے۔ خودکشیوں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انسان کے پاس سب کچھ ہے لیکن "اطمینانِ قلب" یعنی دل کا سکون غائب ہے۔ اس کی بڑی وجہ توکل کی کمی اور ناشکری ہے۔


اسوۂ حسنہ سے حل:

نبی اکرم ﷺ کی زندگی آزمائشوں سے بھری پڑی تھی۔ آپ ﷺ نے بچپن میں ہی والدین کا سایہ اٹھتے دیکھا، اپنی زندگی میں اپنی پیاری اولاد کی وفات کا صدمہ برداشت کیا، طائف میں پتھر کھائے، مکہ سے ہجرت کرنی پڑی، لیکن آپ ﷺ کے چہرے پر ہمیشہ تبسم رہتا تھا اور زبان پر اللہ کا شکر۔


توکل اور رضا بالقضا: اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی آخرت کی ہے۔ جب انسان کا ایمان اللہ پر پختہ ہو جاتا ہے کہ "جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی مشیئت سے ہوتا ہے"، تو اس کا ادراک بدل جاتا ہے اور وہ ڈپریشن سے محفوظ رہتا ہے۔


قناعت پسندی: آپ ﷺ نے فرمایا: "اپنے سے نیچے والے کو دیکھو (تاکہ شکر گزاری پیدا ہو) اور اپنے سے اوپر والے کو مت دیکھو (تاکہ حسد پیدا نہ ہو)۔" یہ ایک ایسا سنہری اصول ہے جو انسان کو ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔


4. خاندانی نظام کا بگاڑ اور رشتوں کی پامالی

جدید طرزِ زندگی نے خاندانی نظام (Family System) کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ طلاق کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، بزرگوں کو اولڈ ہومز (Old Homes) میں چھوڑا جا رہا ہے، اور بچوں کی تربیت صرف اسکولوں اور موبائل اسکرینز کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی ہے۔ رشتوں میں ایثار اور قربانی کا مادہ ختم ہو چکا ہے۔


اسوۂ حسنہ سے حل:

رسول اللہ ﷺ نے معاشرے کی بنیادی اکائی یعنی "خاندان" کو مضبوط کرنے پر بہت زور دیا۔


والدین کے حقوق: اسلام نے ماں کے قدموں تلے جنت اور باپ کو جنت کا دروازہ قرار دے کر بزرگوں کا احترام لازم کیا۔


خواتین کے حقوق: آپ ﷺ نے آخری خطبے میں خاص طور پر عورتوں کے حقوق کی تاکید کی اور فرمایا: "تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل و عیال (بیوی بچوں) کے لیے بہترین ہو۔" آپ ﷺ خود گھر کے کاموں میں امہات المؤمنین کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔


بچوں کی تربیت: آپ ﷺ بچوں سے بے پناہ محبت کرتے، ان کے ساتھ کھیلتے اور انہیں شفقت سے دین سکھاتے۔ اگر آج ہم اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر بچوں کو وقت دیں اور ان کی اخلاقی تربیت کریں، تو خاندانی نظام تباہی سے بچ سکتا ہے۔


5. عدم برداشت، انتہا پسندی اور فرقہ واریت

آج مسلم امہ اور بالخصوص ہمارا معاشرہ شدید قسم کی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا شکار ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر دوسروں کو دائرہ اسلام سے خارج کر دینا، گالیاں دینا اور تشدد پر اتر آنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا گیا ہے۔


اسوۂ حسنہ سے حل:

نبی کریم ﷺ رحمت اللعالمین بن کر آئے۔ آپ ﷺ کی ذات مبارکہ شفقت، نرمی اور درگزر کا اعلیٰ نمونہ تھی۔


عفو و درگزر: فتح مکہ کا موقع تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا دن تھا۔ آپ ﷺ کے پاس طاقت تھی، آپ چاہتے تو اپنے خون کے پیاسے دشمنوں (ابوسفیان، ہندہ اور دیگر) سے بدلہ لے سکتے تھے، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا: "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔"


مذہبی رواداری: میثاقِ مدینہ کے ذریعے آپ ﷺ نے غیر مسلموں (یہودیوں اور دیگر قبائل) کو برابر کے حقوق دیے اور ان کے مذہبی حقوق کا تحفظ کیا۔


نرمی کی تعلیم: آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔" دین میں جبر یا سختی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر ہم سیرت کے اس پہلو کو اپنائیں تو معاشرے سے نفرت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔


حاصلِ کلام (Conclusion)

جدید دور کے تمام چیلنجز — خواہ وہ معاشی ہوں، سماجی ہوں، اخلاقی ہوں یا نفسیاتی — ان کا واحد اور حتمی حل اسوۂ حسنہ کی پیروی میں پوشیدہ ہے۔ اسلام صرف چند عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات (Complete Code of Life) ہے۔


ہمیں صرف زبانی کلامی نبی کریم ﷺ سے محبت کا دعویٰ نہیں کرنا، بلکہ اپنی عملی زندگی میں ان کی سنتوں کو نافذ کرنا ہوگا۔ جب تک ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اسوۂ رسول ﷺ کے سانچے میں نہیں ڈھالیں گے، ہم دنیا میں رسوائی اور آخرت میں خسارے کا شکار رہیں گے۔


آج وقت کی ضرورت ہے کہ ہم قرآن و سنت کا گہرا مطالعہ کریں، علمِ نافع حاصل کریں اور اپنے کردار سے دنیا کو یہ بتائیں کہ اسلام امن، محبت، ترقی اور انسانیت کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے پیارے نبی ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) |Written BY |Scholar Bibi Jameela|

Comments


bottom of page