top of page

THE READERS HUB

معاشرتی امن اور رشتوں کی خوبصورتی: سیرتِ طیبہ کی روشنی میں تمہید: ہمارا معاشرہ اور رشتوں کی اہمیت

  • Farhat Yasir
  • Jul 19
  • 7 min read



انسان ایک سماجی مخلوق ہے، وہ اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تنہا پیدا کرنے کے بجائے اسے خاندان، رشتوں اور ایک معاشرے کا حصہ بنایا ہے۔ ہمارے اردگرد موجود رشتے— جیسے والدین، بہن بھائی، شوہر، بیوی، بچے، رشتہ دار اور پڑوسی— زندگی کا حسن اور خوبصورتی ہیں۔ ایک اچھا اور پرسکون معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں ان تمام رشتوں کے حقوق ادا کیے جائیں، جہاں ہر انسان دوسرے کے لیے دل میں محبت، عزت اور ہمدردی کا جذبہ رکھتا ہو۔


لیکن افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سی بے چینی اور دوری پیدا ہو چکی ہے۔ لوگ اپنے حقوق کے لیے تو آواز اٹھاتے ہیں، لیکن دوسروں کے فرائض اور حقوق کو بھول جاتے ہیں۔ معمولی معمولی باتوں پر رشتوں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں، بھائی بھائی سے ناراض ہے، پڑوسی کو پڑوسی کی فکر نہیں، اور خاندانی نظام آہستہ آہستہ کمزور ہو رہا ہے۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے، ہمارے لیے اس کا بہترین اور خوبصورت حل حضور پاک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں موجود ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے ایک ایسا گلدستہ ہے جس کا ہر پھول ہمیں محبت، امن اور رشتوں کو جوڑنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔


---


1. والدین کا مقام: اطاعت اور حسنِ سلوک


معاشرے اور خاندان کی بنیاد والدین سے شروع ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔


سیرتِ پاک ﷺ سے مثالیں:


نبی کریم ﷺ نے والدین کی اطاعت اور ان کی خدمت کو اسلام کا ایک بنیادی رکن قرار دیا۔ آپ ﷺ کے والدِ محترم آپ کی پیدائش سے پہلے اور والدہ محترمہ آپ کے بچپن میں ہی دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں، لیکن آپ ﷺ نے اپنی رضاعی ماں (دودھ پلانے والی ماں) حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کو ہمیشہ وہ عزت دی جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ جب بھی حضرت حلیمہ سعدیہ آپ ﷺ سے ملنے آتیں، تو آپ ﷺ احتراماً کھڑے ہو جاتے اور اپنی مبارک چادر ان کے بیٹھنے کے لیے زمین پر بچھا دیتے۔


ہمارے لیے سبق اور عملی حل:


* *احترام اور نرم گفتگو:* قرآن پاک کا حکم ہے کہ والدین کو "اف" تک نہ کہو۔ آج ہمیں اپنے والدین کے سامنے اپنی آواز کو دھیما رکھنا چاہیے، خاص طور پر جب وہ بوڑھے ہو جائیں۔

* *دعا اور خدمت:* والدین کی خدمت صرف ان کی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ ان کی وفات کے بعد ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا اور ان کے دوستوں اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا بھی اولاد کی ذمہ داری ہے۔


---


2. میاں بیوی کے تعلقات: محبت اور برابری کا رشتہ


ایک گھر کے پرسکون ہونے کا دارومدار میاں بیوی کے اچھے تعلقات پر ہوتا ہے۔ اگر گھر کے اس بنیادی رشتے میں محبت اور عزت ہو، تو پوری نسل کی تربیت اچھے ماحول میں ہوتی ہے۔


سیرتِ پاک ﷺ سے مثالیں:


حضورِ اکرم ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات (بیویوں) کے ساتھ انتہائی محبت، نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:


> "تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے بہترین ہو، اور میں تم سب سے زیادہ اپنی بیویوں کے لیے اچھا ہوں۔" (ترمذی)


آپ ﷺ گھر کے کاموں میں اپنی بیویوں کا ہاتھ بٹاتے تھے، اپنے کپڑے خود صاف کرتے، اپنے جوتے خود گانٹھتے تھے، اور گھر میں کبھی غصہ یا سختی نہیں فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ ﷺ کا ہنسنا مسکرانا اور ان کے دل کا خیال رکھنا سیرت کا ایک روشن پہلو ہے۔


ہمارے لیے سبق اور عملی حل:


* *صبر اور درگزر:* رشتوں میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے، لیکن شوہر اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کی خامیوں کو نظرانداز کر کے خوبیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔

* *احترام اور مدد:* مرد کو گھر کا سربراہ ہونے کے ناطے رعب جمانے کے بجائے محبت کا ماحول بنانا چاہیے، اور عورت کو گھر کی ملکہ بن کر سکون کا باعث بننا چاہیے۔



خوشحال گھرانے کا اصول:

میاں بیوی کے درمیان محبت ➔ باہمی احترام ➔ بچوں کی بہترین تربیت ➔ پرسکون معاشرہ




---


3. بچوں پر شفقت اور ان کی تربیت


بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر ان کی تربیت محبت اور صحیح خطوط پر نہ کی جائے، تو پورا معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔


سیرتِ پاک ﷺ سے مثالیں:


نبی کریم ﷺ بچوں سے بے پناہ پیار کرتے تھے۔ جب بھی آپ ﷺ گلی سے گزرتے اور بچے کھیل رہے ہوتے، تو آپ ﷺ خود آگے بڑھ کر انہیں سلام کرتے اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے۔ آپ ﷺ نماز پڑھا رہے ہوتے اور آپ کے نواسے حضرت حسن یا حضرت حسین آپ کی پیٹھ پر بیٹھ جاتے، تو آپ ﷺ سجدہ طویل کر دیتے تاکہ بچے گر نہ جائیں یا ان کا دل نہ ٹوٹے۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی بچے پر ہاتھ نہیں اٹھایا اور نہ ہی انہیں جھڑکا۔


ہمارے لیے سبق اور عملی حل:


* *سختی کے بجائے پیار:* بچوں کو مار پیٹ یا ڈانٹ ڈپٹ سے سکھانے کے بجائے پیار، کہانیوں اور اچھے طریقے سے دین اور اخلاق سکھانے چاہئیں۔

* *وقت دینا:* آج بڑوں کو چاہیے کہ وہ اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر بچوں کے ساتھ بیٹھیں، ان کی باتیں سنیں اور ان کے دوست بنیں۔


---


4. صلہ رحمی: رشتہ داروں کے حقوق اور ان کو جوڑنا


اسلام میں رشتہ داروں (چاچا، تایا، ماموں، خالہ اور دیگر قریبی لوگوں) کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کو "صلہ رحمی" کہا جاتا ہے، اور اس پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔


سیرتِ پاک ﷺ سے مثالیں:


حضورِ اکرم ﷺ رشتہ داروں کو جوڑنے والے تھے۔ مکہ کے لوگوں نے آپ ﷺ پر جتنے بھی ظلم کیے، لیکن جب مکہ میں قحط پڑا، تو آپ ﷺ نے مدینہ سے ان کے لیے امداد بھیجی کیونکہ وہ آپ کے رشتہ دار اور قوم کے لوگ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:


> "صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلے میں اچھا سلوک کرے، بلکہ اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے، تو وہ اسے جوڑے۔" (صحیح بخاری)


| رشتوں کی اقسام | نبوی اسوہ اور طریقہ کار | معاشرتی فائدہ |

| --- | --- | --- |

| *قریبی رشتہ دار* | کثرت سے ملنا، تحائف دینا، دکھ سکھ میں شریک ہونا | خاندانی لڑائیوں کا خاتمہ |

| *غریب رشتہ دار* | صدقہ اور مالی مدد میں ان کو اولیت دینا | غربت میں کمی اور دلوں کا ملاپ |

| *ناراض رشتہ دار* | انا کو چھوڑ کر خود پہل کرنا اور معاف کرنا | معاشرتی امن اور سکون |


ہمارے لیے سبق اور عملی حل:


* *انا کا خاتمہ:* ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ "اگر وہ میرے گھر آئے گا تو میں جاؤں گا"۔ ایک سچے مسلمان کو خود آگے بڑھ کر سلام کرنا چاہیے اور ناراضگی ختم کرنی چاہیے۔

* *مالی ہمدردی:* اگر ہمارے خاندان میں کوئی غریب ہے، تو زکوٰۃ، صدقات اور تحائف کا سب سے پہلا حقدار وہی ہے، تاکہ اس کی سفید پوشی بھی قائم رہے اور محبت بھی بڑھے۔


---


5. پڑوسیوں کے حقوق اور حسنِ سلوک


معاشرتی امن کے لیے پڑوسی کا بہت بڑا کردار ہے۔ ایک اچھا پڑوسی زندگی کو آسان بنا دیتا ہے، جبکہ ایک برا پڑوسی زندگی کا سکون برباد کر دیتا ہے۔


سیرتِ پاک ﷺ سے مثالیں:


پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنی تاکید کی گئی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے حقوق کی اتنی تاکید کرتے رہے کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسی کو وراثت (جائیداد) میں حصہ دار نہ بنا دیا جائے۔" (صحیح بخاری)


آپ ﷺ کا وہ واقعہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایک غیر مسلم عورت آپ ﷺ پر روزانہ کوڑا پھینکتی تھی، لیکن جب وہ بیمار ہوئی تو آپ ﷺ اس کے گھر اس کی عیادت کے لیے گئے اور اس کی خدمت کی۔ آپ ﷺ کا یہ اخلاق دیکھ کر وہ عورت اسلام لے آئی۔


ہمارے لیے سبق اور عملی حل:


* *تکلیف نہ دینا:* ہمارے گھر کے شور، گندگی یا کسی بھی عمل سے پڑوسی کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ شخص مومن نہیں جس کا پڑوسی اس کی اذیت (تکلیف) سے محفوظ نہ ہو۔"

* *دکھ سکھ کا خیال:* اگر پڑوسی بیمار ہو تو اس کی عیادت کریں، اگر غریب ہو تو کھانے پینے میں اس کا خیال رکھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر سوئے اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔


---


6. عفو و درگزر اور غصے پر قابو پانا


معاشرے میں لڑائی جھگڑے تب ہی ختم ہو سکتے ہیں جب انسانوں کے اندر ایک دوسرے کو معاف کرنے اور غصے کو پینے کا جذبہ موجود ہو۔


سیرتِ پاک ﷺ سے مثالیں:

حضورِ اکرم ﷺ کی زندگی عفو و درگزر (معاف کرنے) کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔ طائف کے میدان میں جب آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے اور آپ کے جوتے مبارک خون سے بھر گئے، تب بھی آپ ﷺ نے ان کے لیے بددعا نہیں کی بلکہ فرمایا: "اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے، یہ مجھے جانتے نہیں ہیں۔"


اسی طرح فتحِ مکہ کے دن آپ ﷺ نے اپنے سب سے بڑے دشمنوں کو، جنہوں نے آپ کے چچا حضرت حمزہ کا مثلہ کیا تھا اور آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا تھا، ایک ہی جملے میں معاف کر دیا کہ "آج تم پر کوئی ملامت نہیں، تم سب آزاد ہو۔"


ہمارے لیے سبق اور عملی حل:


* *غصے کا علاج:* غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ جب غصہ آئے تو اعوذ باللہ پڑھیں، پانی پیئیں، اور اگر کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں۔

* *معاف کرنے کی عادت:* دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا سیکھیں، کیونکہ جو زمین والوں پر رحم کرتا ہے، عرش والا اس پر رحم کرتا ہے۔


---


حاصلِ کلام (Conclusion)


معاشرتی امن، رشتوں کا سکون اور دلوں کا اطمینان کسی دولت یا مادی چیز سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف اور صرف اس وقت ممکن ہے جب ہم اپنی زندگیوں کو نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے سانچے میں ڈھال لیں۔ اسلام صرف مسجد تک محدود رہنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں بازار میں، گھر میں، رشتہ داروں میں اور دوستوں میں اٹھنے بیٹھنے اور برتاؤ کرنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔


آج اگر ہم اپنے گھروں کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے والدین کے سامنے سر جھکانا ہوگا، اپنی بیویوں اور بچوں سے محبت کرنی ہوگی، اپنے رشتہ داروں کے دکھ سکھ میں شریک ہونا ہوگا اور پڑوسیوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ جب ہم اپنے انفرادی کردار کو سیرتِ رسول ﷺ کے مطابق درست کر لیں گے، تو پورا معاشرہ خود بخود امن، محبت اور سکون کا گلدستہ بن جائے گا۔


اللہ تعالیٰ ہم سب کو پیارے نبی ﷺ کی سنتوں پر دل سے عمل کرنے اور رشتوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

Comments


bottom of page