سوشل میڈیا کا دور اور اخلاقِ نبویﷺ: ایک اہم فکری و معاشرتی جائزہتمہید: اکیسویں صدی کا سب سے بڑا چیلنجانسان نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے، وہ رابطوں اور مواصلات کے نت نئے طریقے ڈھونڈنے میں مصروف رہا
- Farhat Yasir
- Jul 6
- 7 min read

خطوط، ٹیلی گراف، اور ٹیلی فون سے ہوتا ہوا یہ سفر آج "سوشل میڈیا" کی شکل میں اپنی معراج پر پہنچ چکا ہے۔ انٹرنیٹ اور سمارٹ فونز نے دنیا کے جغرافیائی فاصلوں کو سمیٹ کر ایک چھوٹی سی اسکرین میں بند کر دیا ہے۔ آج فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک جیسی ایپلی کیشنز ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات کو سونے تک، ہمارا ایک بڑا وقت ان پلیٹ فارمز پر گزرتا ہے۔
لیکن اس تکنیکی انقلاب نے جہاں زندگی کو آسان اور تیز رفتار بنایا ہے، وہاں انسانی نفسیات، معاشرتی اقدار اور خاص طور پر ہماری اخلاقیات پر گہرے اور خوفناک اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے، ہماری زندگی کا سب سے بڑا مرکز و محور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ گرامی اور آپ ﷺ کا اسوۂ حسنہ ہے۔ قرآن مجید نے واشگاف الفاظ میں اعلان فرمایا:
"بلاشبہ تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی ذات) میں بہترین نمونہ ہے۔" (سورہ الاحزاب: 21)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈیجیٹل دنیا کے اس طوفان میں ہم نے اپنے اسوۂ حسنہ کو یاد رکھا ہے؟ کیا ہمارے لائکس (Likes)، کمنٹس (Comments)، شیئرز (Shares) اور اسٹیٹس (Status) نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہیں؟ یہ آرٹیکل اسی اہم موضوع پر ایک تفصیلی فکری جائزہ پیش کرتا ہے۔
1. زبان کا کمپیوٹرائزڈ متبادل اور اس کی جوابدہی
ماضی میں اخلاقیات کا تعلق زیادہ تر انسان کی گفتگو اور ظاہری رویے سے ہوتا تھا۔ انسان جو بولتا تھا، سوچ سمجھ کر بولتا تھا کیونکہ سامنے سننے والا موجود ہوتا تھا۔ لیکن سوشل میڈیا نے ہمیں ایک ایسی "تخلیقی آزادی" دے دی ہے جہاں ہم اپنے بند کمرے میں بیٹھ کر، ایک فرضی نام یا تصویر کے پیچھے چھپ کر، کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق، انسان جو کچھ بھی لکھتا ہے یا بولتا ہے، وہ اس کا ذمہ دار ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"انسان منہ سے کوئی لفظ نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (فرشتہ لکھنے کے لیے) تیار رہتا ہے۔" (سورہ ق: 18)
آج کے دور میں ہمارا "کی بورڈ" اور "ٹچ اسکرین" ہی ہماری زبان بن چکے ہیں۔ جب ہم کسی کی پوسٹ پر کوئی منفی، توہین آمیز یا تمسخر اڑانے والا کمنٹ کرتے ہیں، تو ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ لفظ صرف اسکرین پر ظاہر نہیں ہو رہا، بلکہ یہ ہمارے نامۂ اعمال میں بھی درج ہو رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ اپنی زبانِ مبارک کو پکڑ کر فرمایا تھا:
"لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ گرانے والی چیز ان کی زبانوں کی کٹائی (یعنی گفتگو) ہی تو ہے۔" (جامع ترمذی)
اگر ہم سوشل میڈیا پر لکھتے وقت صرف اس ایک اصول کو اپنا لیں کہ میرا لکھا ہوا ہر لفظ قیامت کے دن میرے سامنے پیش کیا جائے گا، تو ہماری ڈیجیٹل دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
2. تصدیقِ معلومات: افواہوں کا سیلاب اور ہماری ذمہ داری
سوشل میڈیا کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں معلومات سیکنڈوں میں وائرل ہو جاتی ہیں۔ چاہے وہ کسی کی ذاتی زندگی کے بارے میں ہو، کسی حادثے کے بارے میں ہو، یا پھر کوئی مذہبی اور سیاسی معاملہ ہو۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ کسی بھی پوسٹ کو دیکھتے ہی، بغیر اس کی سچائی جانے، فوری طور پر "شیئر" کا بٹن دبا دیتے ہیں۔
اسلام اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ قرآن پاک میں واضح حکم ہے:
"اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونے لگو۔" (سورہ الحجرات: 6)
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے افواہیں پھیلانے والوں کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی۔ آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
"کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کر دے۔" (صحیح مسلم)
آج جب ہم کسی سیاسی رہنما، کسی عام شہری، یا کسی بھی انسان کے خلاف کوئی منفی پوسٹ بغیر تحقیق کے شیئر کرتے ہیں، تو ہم اس جھوٹ اور غیبت کے گناہ میں برابر کے شریک بن جاتے ہیں۔ ایک سچے مسلمان کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کرے۔ اگر تصدیق ممکن نہ ہو، تو خاموشی اختیار کرنا ہی اسوۂ نبوی ﷺ ہے۔
3. عیب جوئی اور پردہ پوشی: اسلامی وائرل کلچر کا موازنہ
آج کل سوشل میڈیا پر ایک نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے جسے "شیمنگ" (Shaming) یا کسی کو ذلیل کرنا کہا جاتا ہے۔ اگر کسی سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے، یا کسی کی کوئی نجی ویڈیو یا تصویر سامنے آ جائے، تو لوگ اسے وائرل کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس عمل کو "تفریح" یا "انصاف" کا نام دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ خالصتاً اخلاقی پستی ہے۔
آئیں دیکھتے ہیں کہ رحمتِ عالم ﷺ کا اس معاملے میں کیا طرزِ عمل تھا۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ انسانوں کی پردہ پوشی کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے:
"جس نے دنیا میں کسی مسلمان کے عیب چھپائے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا۔" (صحیح بخاری)
دوسروں کے عیبوں کو اچھالنا، ان کا تمسخر اڑانا اور انہیں دنیا کے سامنے رسوا کرنا منافقت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اگر کوئی شخص واقعی غلطی پر ہے، تو اسلام ہمیں "الْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ" (حکمت اور بہترین نصیحت) کے ساتھ تنہائی میں سمجھانے کا حکم دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کے پبلک کمنٹس میں کسی کی عزت کی دھجیاں اڑانا اخلاقِ نبوی ﷺ کے بالکل منافی ہے۔
4. بدگمانی اور تجسس: اسکرین کے پیچھے کی نفسیات
سوشل میڈیا پر ایک اور بیماری جو بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، وہ ہے "بدگمانی"۔ ہم کسی کی آدھی ادھوری بات سن کر یا اس کی کسی تصویر کو دیکھ کر خود سے ایک پوری کہانی گھڑ لیتے ہیں اور پھر اس پر فتوے جاری کر دیتے ہیں۔ لوگوں کے نجی معاملات میں جھانکنا اور ان کے اسٹیٹس کا پوسٹ مارٹم کرنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے۔
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں اس سے سخت منع فرمایا ہے:
"اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور ایک دوسرے کے احوال کا تجسس نہ کیا کرو۔" (سورہ الحجرات: 12)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہے۔" (صحیح بخاری)
کسی کی نیت پر شک کرنا، کسی کے عمل کا غلط مطلب نکالنا اور پھر اس پر انٹرنیٹ پر بحث و مباحثہ شروع کر دینا ہمارے دلوں کو سخت کر دیتا ہے اور معاشرے میں نفرت کے بیج بوتا ہے۔ ہمیں اپنے دلوں کو صاف رکھنا چاہیے اور دوسروں کے لیے ہمیشہ مثبت سوچ (حسنِ ظن) رکھنی چاہیے۔
5. بحث و تکرار اور وقت کا ضیاع
فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر اکثر مذہبی، سیاسی یا سماجی موضوعات پر ایسی بحثیں دیکھنے کو ملتی ہیں جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ لوگ گھنٹوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کمنٹس سیکشن میں لڑتے رہتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں اور ایک دوسرے کی تکفیر تک کر دیتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے ایسی لایعنی اور بے مقصد بحثوں سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے، خواہ انسان سچا ہی کیوں نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود بحث و تکرار چھوڑ دے۔" (سنن ابوداؤد)
اس کے ساتھ ساتھ، سوشل میڈیا پر گھنٹوں اسکرولنگ (Scrolling) کرنا، جس سے نہ دنیا کا کوئی فائدہ ہو اور نہ آخرت کا، وقت کا بدترین ضیاع ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو چھوڑ دے جو لایعنی (بے فائدہ) ہیں۔" (جامع ترمذی)
وقت اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ایک بہت بڑی نعمت اور امانت ہے۔ قیامت کے دن عمر کے ایک ایک حصے کا حساب ہونا ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنی زندگی کے قیمتی سال صرف ریلز (Reels) اور ویڈیوز دیکھنے میں تو برباد نہیں کر رہے؟
6. سوشل میڈیا بطور صدقۂ جاریہ: ایک مثبت رخ
اس تمام صورتحال کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ سوشل میڈیا سراسر ایک برائی ہے اور ہمیں اسے فوری طور پر چھوڑ دینا چاہیے۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ اچھی ہوتی ہے اور نہ بری، بلکہ اس کا استعمال اسے نیکی یا گناہ کا ذریعہ بناتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک چاقو سے پھل بھی کاٹا جا سکتا ہے اور کسی کی جان بھی لی جا سکتی ہے۔
سوشل میڈیا ایک بہترین اور طاقتور ترین ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم دینِ اسلام کا حقیقی اور پرامن چہرہ پوری دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ ہم اسے درج ذیل مثبت کاموں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں:
دینی تعلیمات کی اشاعت: قرآن و حدیث کے پیغامات، اخلاقی اقدار اور اولیاء اللہ کے اقوال کو خوبصورت ڈیزائنز کی شکل میں شیئر کرنا۔
تعلیم اور ہنر کی منتقلی: اگر آپ کے پاس کوئی علم ہے، جیسے کہ تدریس (Teaching)، گرافک ڈیزائننگ، یا کوئی اور ہنر، تو آپ دوسروں کو مفت سکھا کر ان کی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں۔
رفاہی کام اور مدد: کسی غریب، یتیم یا بیمار کی مدد کے لیے مہم چلانا اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کی آواز بننا۔
جب ہم سوشل میڈیا پر کوئی اچھی بات شیئر کرتے ہیں، اور جتنے لوگ اس سے ہدایت پاتے ہیں یا نیکی کرتے ہیں، ان سب کا اجر ہمارے کھاتے میں بھی لکھ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک بہترین صدقۂ جاریہ ہے۔
حرفِ آخر اور عملی لائحہ عمل
سوشل میڈیا کی اس چکا چوند میں خود کو اخلاقی گراوٹ سے بچانا ایک جہاد سے کم نہیں ہے۔ ہمیں اپنے ڈیجیٹل رویوں کو بدلنے کے لیے ایک واضح اور عملی لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ جب بھی ہم اپنا سمارٹ فون ہاتھ میں لیں، ہمیں خود سے چند سوالات پوچھنے چاہئیں:
کیا میری یہ پوسٹ یا کمنٹ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو پسند آئے گا؟
کیا میں جو خبر شیئر کر رہی ہوں، وہ سو فیصد سچی ہے؟
کیا اس پوسٹ سے کسی کی دل آزاری یا رسوائی تو نہیں ہو رہی؟
کیا میں اپنے وقت کا صحیح استعمال کر رہی ہوں؟
آئیں آج ہم سب یہ پکا عزم کریں کہ ہم اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو نفرت، حسد، جھوٹ اور لایعنی بحثوں کا اکھاڑا نہیں بننے دیں گے، بلکہ انہیں اخلاقِ نبوی ﷺ کی روشنی سے منور کریں گے۔ ہماری ہر پوسٹ امن، محبت، علم اور سچائی کا پیغام ہونی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سوشل میڈیا کے فتنوں سے محفوظ رکھے، ہمارے ظاہر و باطن کو ایک جیسا بنائے اور ہمیں زندگی کے ہر موڑ پر، خواہ وہ حقیقی دنیا ہو یا ڈیجیٹل، اپنے پیارے نبی ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین یا رب
العالمین)
|Written By |Scholar Bibi Jameela|



Comments