top of page

THE READERS HUB

بس کر دو، کہ اب ہم رکنا چاہتے ہیں

  • Farhat Yasir
  • Jul 22
  • 1 min read

بس کر دو، کہ اب ہم رکنا چاہتے ہیں،تھک گئے ہیں، کچھ دیر ٹیک لگا لینا چاہتے ہیں۔


کہ بہت ہوا آزمائشوں کا یہ مسلسل سلسلہ،اب نہ آزماؤ، کہ ہم کچھ بھی نہیں چاہتے ہیں۔


تھم سے گئے ہیں دل کے ارمان سبھی،کسی کو نہیں، اب خود کو سنبھالنا چاہتے ہیں۔


بہت جتا لیا، منا لیا محبت سے اُسے،آخر اب اُسے بھی یہ بتانا چاہتے ہیں۔

تم سمجھ نہ سکو گے میرے پیار کو کبھی،

ہاں، وہ عشق کرتے ہیں، ہم دل لگانا چاہتے ہیں

✍️ فرحت یاسر

بس کر دو، کہ اب ہم رکنا چاہتے ہیں،

تھک گئے ہیں، کچھ دیر ٹیک لگا لینا چاہتے ہیں۔

کہ بہت ہوا آزمائشوں کا یہ مسلسل سلسلہ،

اب نہ آزماؤ، کہ ہم کچھ بھی نہیں چاہتے ہیں۔

تھم سے گئے ہیں دل کے ارمان سبھی،

کسی کو نہیں، اب خود کو سنبھالنا چاہتے ہیں۔

بہت جتا لیا، منا لیا محبت سے اُسے،

آخر اب اُسے بھی یہ بتانا چاہتے ہیں۔


تم سمجھ نہ سکو گے میرے عشق کی حقیقت کبھی،

ہم عشق کرتے ہیں، وہ دل لگانا چاہتے ہیں۔

Comments


bottom of page