top of page

THE READERS HUB

میں حاصل تھی... یا لاحاصل اُسے؟✍️ از: فرحت یاسرابتدائیہ

Farhat Yasir
Sep 17
29 min read




"مجھے نہیں معلوم وہ عورت کون تھی... شاید اب اس دنیا میں بھی نہ ہو۔

اس کی کوئی تصویر میرے پاس نہیں، نہ اس کی آواز یاد ہے۔ بس اس کی ڈائری کے چند اوراق میرے ہاتھ لگے تھے۔

ان صفحات پر نہ تاریخ درج تھی، نہ کسی کا نام۔ صرف احساسات تھے... ایسے احساسات جنہیں پڑھتے ہوئے مجھے بار بار یوں لگا جیسے وہ اپنی کہانی نہیں، ہر اُس عورت کی کہانی لکھ رہی ہو جس نے محبت میں خود کو مکمل طور پر سونپ دیا، مگر ایک دن خاموشی سے خود سے پوچھ بیٹھی...

'میں حاصل تھی... یا لاحاصل اُسے؟'"

یہیں سے ناول شروع ہوگا...



**"میں نہیں جانتی وہ عورت کون تھی...شاید وہ میں تھی...شاید تم...یا شاید ہر وہ عورت، جس نے محبت میں اپنی آواز کھو دی۔

میں صرف اس کی کہانی سنانے آئی ہوں..."**

"یہ ناول نہیں... ایک عورت کی خاموش روح کی آواز ہے۔" 🌿🤍


میں حاصل تھی... یا لاحاصل اُسے؟

بابِ اوّل

روحوں کی پہلی پہچان

"بعض ملاقاتیں زمین پر نہیں ہوتیں... ان کی ابتدا آسمانوں سے ہوتی ہے۔"

مجھے آج تک معلوم نہیں ہو سکا...

وہ عورت کون تھی؟

اس کا نام کیا تھا؟

وہ اب زندہ بھی ہے یا نہیں؟

لیکن اس کی ڈائری کے پہلے صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا...

"اگر تم کبھی محبت کرو... تو پہلے اپنے دل سے پوچھ لینا، کیا وہ جدائی کا بوجھ اٹھا سکے گا؟"

اس جملے کے نیچے کچھ سیاہی پھیلی ہوئی تھی۔

شاید...

وہ الفاظ لکھتے ہوئے روئی تھی۔

یا شاید...

آنکھوں سے گرنے والے آنسوؤں نے سیاہی کو بہا دیا تھا۔

میں نے آہستہ سے دوسرا صفحہ پلٹا۔

وہاں اس نے لکھا تھا...

مجھے ہمیشہ لگتا تھا...

کہ انسان زندگی میں پہلی بار کسی سے ملتا ہے۔

پھر ایک دن میں نے جان لیا...

کچھ لوگ پہلی بار نہیں ملتے...

وہ صرف دوبارہ ملتے ہیں۔

شاید...

عالمِ ارواح میں کبھی ہماری روحیں ایک دوسرے کے قریب بیٹھی ہوں گی۔

شاید...

ہم نے ایک دوسرے کے لیے کوئی دعا کی ہوگی۔

شاید...

ہم نے ایک دوسرے کو پہچان لیا ہوگا۔

اسی لیے...

زمین پر پہلی ملاقات بھی اجنبی نہیں لگتی۔

وہ دن آج بھی میری یادوں میں سانس لیتا ہے۔

دن بالکل عام تھا۔

لوگ اپنی مصروف زندگیوں میں گم تھے۔

ہوا میں خزاں کی ہلکی سی خوشبو تھی۔

درختوں سے زرد پتے ایسے گر رہے تھے جیسے وقت اپنی پرانی یادیں زمین پر بکھیر رہا ہو۔

میں بھی ان ہی لوگوں میں شامل تھی...

جنہیں اپنے کل کی فکر تھی۔

مگر مجھے کیا معلوم تھا...

کہ میرا آنے والا کل...

اُسی دن میرے سامنے سے گزرنے والا ہے۔

وہ آیا...

اور وقت رک گیا۔

نہ اس نے مجھے دیکھا۔

نہ میں نے اسے پکارا۔

مگر میری روح...

جیسے اچانک چونک کر کھڑی ہو گئی۔

یوں لگا...

جیسے برسوں سے بند کسی کمرے کی کھڑکی اچانک کھل گئی ہو۔

دل نے بے اختیار کہا...

"یہ اجنبی نہیں ہے..."

میں نے خود کو ڈانٹا۔

"پاگل نہ بنو...

تم اسے جانتی بھی نہیں۔"

مگر دل...

دل کبھی دلیل نہیں مانتا۔

اسے صرف پہچان ہوتی ہے۔

اور روحیں...

ناموں سے نہیں...

احساس سے پہچانتی ہیں۔

اس دن پہلی بار مجھے احساس ہوا...

اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو ہماری زندگی میں بھیجنے سے پہلے...

شاید ہماری روح میں ان کی جگہ بنا دیتا ہے۔

اسی لیے...

جب وہ سامنے آتے ہیں...

تو دل گھبراتا نہیں...

سکون محسوس کرتا ہے۔

میں نے اس سے کوئی بات نہیں کی۔

مگر نہ جانے کیوں...

اس کی خاموشی بھی مجھے یاد رہ گئی۔

اس کی چال...

اس کا انداز...

اس کی نظریں...

سب کچھ ایسا تھا...

جیسے میں کہیں بہت پہلے یہ سب دیکھ چکی ہوں۔

لوگ کہتے ہیں...

محبت آہستہ آہستہ ہوتی ہے۔

مجھے نہیں معلوم۔

میرے ساتھ تو صرف ایک لمحہ ہوا تھا...

اور اس ایک لمحے نے...

میری پوری زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔

ایک وہ زندگی...

جو اس سے پہلے تھی۔

اور ایک وہ...

جو اس کے بعد شروع ہوئی۔

اس رات...

میں دیر تک سو نہ سکی۔

کھڑکی سے چاند دکھائی دے رہا تھا۔

میں نے پہلی بار چاند سے کوئی دعا نہیں مانگی۔

میں نے صرف اللہ سے اتنا کہا...

"یا رب... اگر یہ احساس میری آزمائش ہے... تو مجھے صبر عطا فرما۔ اور اگر یہ تیری رحمت ہے... تو اسے میرے ایمان سے کبھی جدا نہ ہونے دینا۔"

اس دعا کے بعد...

دل میں عجیب سا سکون اتر آیا۔

ایسا سکون...

جو صرف اللہ کی طرف سے آتا ہے۔

مجھے خبر نہیں تھی...

کہ ہر دعا کی قبولیت...

وصال نہیں ہوتی۔

بعض دعائیں...

انسان کو اس راستے پر لے جاتی ہیں...

جہاں وہ پہلے خود کو کھوتا ہے...

پھر اپنے رب کو پا لیتا ہے۔

اور شاید...

میری دعا بھی...

ایسی ہی تھی۔

بابِ اوّل کا اختتام

"روحیں جب ایک دوسرے کو پہچان لیں... تو فاصلے ختم نہیں ہوتے، صرف خاموش ہو جاتے ہیں۔"

— جاری ہے... 🌿📖


بابِ دوم

وہ جو پہلی بار بھی اجنبی نہ تھا

"بعض لوگ ہماری زندگی میں داخل نہیں ہوتے... وہ ہماری دعاؤں کے درمیان اُترتے ہیں، اور پھر ساری عمر وہیں رہ جاتے ہیں۔"

کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے...

اللہ تعالیٰ بعض ملاقاتوں کو زمین پر نہیں لکھتا...

وہ پہلے انہیں روحوں میں اتارتا ہے۔

پھر ایک دن...

زمانہ، فاصلے اور حالات...

سب کو ایک لمحے میں سمیٹ کر دونوں کو ایک ہی راستے پر لا کھڑا کرتا ہے۔

وہ دن بھی شاید ایسا ہی تھا۔

میں نے اس کے بعد خود کو بدلتے ہوئے دیکھا۔

میں وہی تھی...

میرا کمرہ وہی تھا۔

وہی کھڑکی...

وہی کتابیں...

وہی چائے کا کپ...

وہی شامیں...

مگر نہ جانے کیوں...

ہر چیز میں اس کی موجودگی کا ایک ان دیکھا عکس اتر آیا تھا۔

میں کتاب کھولتی...

تو لفظوں کے درمیان کوئی خاموش مسکراہٹ محسوس ہوتی۔

بارش برستی...

تو یوں لگتا جیسے آسمان بھی کسی کی یاد میں بھیگ رہا ہو۔

ہوا چلتی...

تو اس کی خوشبو کا گمان ہونے لگتا۔

اور میں خود سے ڈرنے لگی تھی۔

آخر کوئی انسان...

کسی کو اتنا محسوس کیسے کر سکتا ہے...

جسے وہ جانتا بھی نہ ہو؟

میں نے اپنے دل کو بہت سمجھایا۔

"یہ صرف ایک احساس ہے...

گزر جائے گا۔"

مگر کچھ احساس...

وقت گزرنے سے نہیں گزرتے۔

وہ انسان کے وجود کا حصہ بن جاتے ہیں۔

مجھے یاد ہے...

ایک شام میں نے آئینے میں خود کو دیکھا۔

چہرہ وہی تھا۔

مگر آنکھیں بدل گئی تھیں۔

ان میں ایک انتظار اتر آیا تھا۔

اور انتظار...

محبت کا پہلا نام ہے۔

اس دن پہلی بار میں نے یہ سمجھا...

محبت ہمیشہ ملنے کی خواہش نہیں ہوتی۔

کبھی کبھی...

وہ صرف کسی کی سلامتی کی دعا بن جاتی ہے۔

میں نے کبھی اللہ سے یہ دعا نہیں مانگی...

کہ وہ صرف میرا ہو جائے۔

میں نے صرف اتنا کہا...

**"یا اللہ...

جس راستے پر بھی ہو...

اس کے قدم آسان رکھنا۔

اس کے دل کو سکون دینا۔

اور اگر میری قسمت میں اس کی خوشی لکھنا...

تو میری ذات کو اس کی آسانی بنا دینا، آزمائش نہیں۔"**

دعا ختم ہوئی...

اور میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلے۔

شاید...

یہ محبت کی پہلی عبادت تھی۔

جس میں انسان...

اپنی خواہش سے پہلے...

دوسرے کی بھلائی مانگتا ہے۔

مگر محبت...

صرف دعا نہیں ہوتی۔

وہ ایک خاموش خوف بھی ہوتی ہے۔

وہ خوف...

جسے کوئی زبان بیان نہیں کر سکتی۔

مجھے ڈر لگنے لگا تھا۔

اسے کھونے کا نہیں...

کیونکہ ابھی تو وہ ملا ہی کہاں تھا۔

مجھے ڈر...

اپنے بدل جانے کا تھا۔

میں نے کبھی کسی کے لیے اتنی دعائیں نہیں کی تھیں۔

کبھی کسی کی خیریت...

اپنی نیند سے زیادہ عزیز نہیں لگی تھی۔

یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا تھا؟

کیا واقعی...

ایک انسان...

دوسرے انسان میں اپنی پوری کائنات دیکھ سکتا ہے؟

میں نے جواب ڈھونڈنے کے لیے بہت سی کتابیں پڑھیں۔

بزرگوں کے اقوال پڑھے۔

صوفیوں کی تحریریں پڑھیں۔

اور پھر ایک دن...

ایک جملہ میرے دل میں اتر گیا۔

**"محبت وہ نہیں جو انسان کو کسی کے قریب لے آئے...

محبت وہ ہے...

جو انسان کو اپنے رب کے قریب کر دے۔"**

میں دیر تک اس جملے کو دیکھتی رہی۔

پھر مسکرا دی۔

شاید...

اسی لیے میری دعائیں پہلے سے لمبی ہونے لگی تھیں۔

اور سجدے...

پہلے سے زیادہ پرسکون۔

وقت خاموشی سے گزرتا رہا۔

میں نے کبھی اس کے راستے میں آنے کی کوشش نہیں کی۔

نہ اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔

نہ اپنی کیفیت بیان کی۔

کیونکہ کچھ محبتیں...

اعلان سے نہیں...

ادب سے زندہ رہتی ہیں۔

میں صرف دور سے دعا کرتی رہی۔

اور دل ہی دل میں سوچتی رہی...

اگر قسمت میں ملاپ لکھا ہوگا...

تو کوئی راستہ ضرور بن جائے گا۔

اور اگر نہیں...

تو شاید اللہ مجھے اتنا صبر دے گا...

کہ میری محبت...

شکوہ نہ بنے...

دعا بن جائے۔

بابِ دوم کا اختتام

اس رات...

چاند بہت روشن تھا۔

میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور پہلی بار محسوس کیا...

ہر دعا قبول ہونے کے لیے نہیں ہوتی...

کچھ دعائیں انسان کو بدلنے کے لیے بھی ہوتی ہیں۔

اور شاید...

میں بدلنے لگی تھی۔

"محبت کا پہلا معجزہ وصال نہیں... بلکہ انسان کے دل میں دعا کا پیدا ہو جانا ہے۔"

— جاری ہے... 🌿📖

بابِ سوم

انتظار

"محبت کا سب سے طویل سفر، دو شہروں کے درمیان نہیں... دو دلوں کے درمیان ہوتا ہے، جہاں ایک خاموش رہتا ہے اور دوسرا کبھی جان ہی نہیں پاتا۔"

انتظار...

یہ لفظ جتنا چھوٹا ہے...

اپنے اندر اتنی ہی لمبی صدیاں سمیٹے ہوئے ہے۔

ہر انسان کسی نہ کسی چیز کا انتظار کرتا ہے۔

کوئی صبح کا...

کوئی کامیابی کا...

کوئی اپنے خوابوں کا...

اور کچھ لوگ...

صرف ایک نظر کے۔

میں بھی انتظار کرنے لگی تھی۔

مگر میرا انتظار عجیب تھا۔

مجھے اس کے آنے کا یقین بھی نہیں تھا...

اور نہ ہی اس کے نہ آنے کا گلہ۔

میں صرف...

اس احساس کے ساتھ جینے لگی تھی...

کہ کہیں نہ کہیں...

ایک شخص سانس لے رہا ہے...

جس کی خبر میرے دل کو ہے۔

یہ کیسا تعلق تھا؟

جس میں نہ وعدے تھے...

نہ تعلق کا کوئی نام...

پھر بھی روح جیسے اس کے گرد طواف کرتی رہتی تھی۔

میں نے کبھی خود کو اتنا خاموش نہیں دیکھا تھا۔

پہلے میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنس دیتی تھی۔

بارش میں بھیگ جاتی تھی۔

ہوا کے ساتھ دوپٹہ اڑتا تو اسے سنبھالنے کے بجائے مسکرا دیتی تھی۔

اب بھی ہنستی تھی...

مگر صرف لوگوں کے سامنے۔

تنہائی میں...

میرے لبوں پر خاموشی رہنے لگی تھی۔

مجھے یاد ہے...

ایک شام آسمان پر پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔

میں کافی دیر تک انہیں دیکھتی رہی۔

پھر اچانک دل میں ایک خیال آیا۔

**"ہر پرندہ جانتا ہے...

اسے شام ہونے سے پہلے کہاں لوٹنا ہے۔"**

میں نے آہستہ سے خود سے پوچھا...

"اور دل؟"

دل کہاں لوٹتا ہے؟

اس کا گھر کہاں ہوتا ہے؟

کون سا در ایسا ہوتا ہے...

جہاں پہنچ کر اس کی بے چینی ختم ہو جائے؟

شاید...

دل بھی اپنا گھر تلاش کرتا ہے۔

اور جب اسے اپنا گھر مل جائے...

تو پھر وہ دنیا کے کسی شور میں سکون نہیں ڈھونڈتا۔

وہ صرف...

ایک آواز...

ایک دعا...

یا ایک وجود میں بس جاتا ہے۔

کبھی کبھی میں سوچتی...

اگر زندگی ایک کتاب ہے...

تو کیا ہر شخص ہمارے حصے کا ایک باب ہوتا ہے؟

یا کچھ لوگ پوری کتاب بن جاتے ہیں؟

وہ شاید میری کتاب کا ایک باب نہیں تھا۔

وہ تو ان تمام صفحوں کے درمیان چھپی ہوئی وہ سیاہی تھا...

جس کے بغیر کوئی لفظ مکمل نہیں ہوتا۔

اور یہی احساس...

مجھے خوفزدہ کرنے لگا تھا۔

کیونکہ انسان جب کسی کو اپنی سانسوں میں بسا لیتا ہے...

تب اسے کھونے کا خوف نہیں ہوتا...

بلکہ خود کو کھو دینے کا ڈر ہوتا ہے۔

میں نے خود کو بہت سمجھایا۔

"اپنے دل کو قابو میں رکھو۔"

مگر دل...

آخر دل ہی تو تھا۔

وہ ہر اذان پر اس کے لیے دعا کرتا۔

ہر سجدے میں اس کی سلامتی مانگتا۔

ہر رات سونے سے پہلے...

اسے اللہ کی امان میں دے کر آنکھیں بند کرتا۔

شاید محبت...

اسی کا نام ہے۔

جہاں تم کسی سے ملنے سے پہلے...

اسے اپنے رب کے سپرد کر دیتے ہو۔

ایک رات...

بارش بہت زور سے ہو رہی تھی۔

بجلی کی چمک پورے کمرے کو روشن کر رہی تھی۔

میں کھڑکی کے پاس بیٹھی دیر تک بارش دیکھتی رہی۔

پھر دل نے آہستہ سے کہا...

"اگر ایک دن وہ تمہیں بھول جائے تو؟"

یہ سوال سنتے ہی...

میری پلکیں بھیگ گئیں۔

میں نے فوراً جواب نہیں دیا۔

کافی دیر بعد...

میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا...

"یا اللہ...

اگر اس کی خوشی میں میرا نہ ہونا لکھا ہے...

تو مجھے اتنا ظرف عطا کرنا...

کہ میں اس کی خوشیوں سے محبت کرنا نہ چھوڑوں۔"

یہ کہتے ہوئے...

مجھے پہلی بار محسوس ہوا...

محبت...

مالک بننے کا نام نہیں۔

محبت...

دعا بن جانے کا نام ہے۔

اُس رات میں بہت دیر تک جاگتی رہی۔

چاند بادلوں میں چھپتا...

پھر نکل آتا۔

تب مجھے احساس ہوا...

شاید محبت بھی چاند کی طرح ہوتی ہے۔

کبھی پوری...

کبھی ادھوری...

مگر آسمان کبھی اس سے خالی نہیں ہوتا۔

میں نے آنکھیں بند کیں...

اور پہلی بار اپنے دل کو خاموش ہوتے سنا۔

وہ شاید تھک گیا تھا...

یا شاید...

انتظار کو قبول کرنا سیکھ رہا تھا۔

بابِ سوم کا اختتام

"انتظار ہمیشہ کسی کے آنے کا نہیں ہوتا... کبھی کبھی انسان اس دن کا بھی انتظار کرتا ہے، جب اس کا اپنا دل خاموش ہونا سیکھ جائے۔"

— جاری ہے... 🌿📖


بابِ چہارم

میں حاصل تھی... یا صرف ایک یقین؟

"محبت کا سب سے خاموش دکھ یہ نہیں کہ کوئی بدل جائے... بلکہ یہ ہے کہ ایک دن تمہیں محسوس ہو، تمہیں کھونے کا خوف صرف تمہیں ہی تھا۔"

اس دن...

پہلی بار میرے دل نے مجھے ڈرایا تھا۔

محبت اب صرف ایک خوبصورت احساس نہیں رہی تھی۔

وہ ایک ذمہ داری بن گئی تھی...

جسے میں نے اپنے وجود کے ہر گوشے میں جگہ دے دی تھی۔

صبح کی پہلی دعا میں وہ تھا۔

رات کی آخری آہ میں بھی وہی۔

میں نے اپنی خوشیوں کا معیار بھی اس کی مسکراہٹ کو بنا لیا تھا۔

اگر وہ خوش ہوتا...

تو مجھے لگتا پوری دنیا روشن ہو گئی ہے۔

اور اگر کبھی اس کی آواز میں تھکن محسوس ہوتی...

تو میرا پورا دن بےچینی میں گزر جاتا۔

مجھے اپنی اس کیفیت پر حیرت ہوتی تھی۔

آخر کوئی انسان...

کسی دوسرے انسان میں اس حد تک کیسے ڈھل سکتا ہے؟

پھر ایک دن...

میں نے ایک بزرگ کی بات پڑھی۔

انہوں نے لکھا تھا...

"عورت محبت نہیں کرتی... وہ اپنا گھر بناتی ہے۔ اور جب وہ کسی کو اپنا گھر بنا لے، تو پھر دنیا کی ہر راہ اسی دروازے تک جا کر ختم ہو جاتی ہے۔"

میں دیر تک یہ الفاظ پڑھتی رہی۔

پھر بےاختیار میری آنکھیں نم ہو گئیں۔

ہاں...

شاید یہی میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔

میں نے ایک انسان سے محبت نہیں کی تھی...

میں نے اس میں اپنی پوری دنیا آباد کر لی تھی۔

وقت خاموشی سے گزرتا رہا۔

میں نے کبھی مطالبہ نہیں کیا۔

کبھی سوال نہیں کیا۔

کبھی یہ نہیں پوچھا...

کہ میری جگہ کہاں ہے؟

کیونکہ محبت...

حساب نہیں مانگتی۔

وہ تو بس...

دیتی ہے۔

اور دیتی ہی چلی جاتی ہے۔

مگر شاید...

دینے والوں کی ایک خاموش خواہش ضرور ہوتی ہے۔

وہ یہ نہیں چاہتے کہ انہیں بدلے میں سب کچھ ملے...

صرف اتنا چاہتے ہیں...

کہ ایک دن کوئی ان کی طرف دیکھ کر کہہ دے...

"تم ہو... تو بہت کچھ ہے۔"

یہ ایک جملہ...

کبھی کبھی پوری زندگی کو کافی ہوتا ہے۔

ایک شام...

میں نے محسوس کیا...

میں پورا دن کسی پیغام، کسی آواز، کسی لمحے کی منتظر رہی تھی۔

اور پھر اچانک مجھے اپنے آپ پر ہنسی آ گئی۔

میں نے آئینے میں خود کو دیکھا۔

اور آہستہ سے پوچھا...

"کیا واقعی تم اتنی بدل گئی ہو؟"

آئینہ خاموش تھا۔

مگر میری آنکھوں نے جواب دے دیا۔

ہاں...

میں بدل گئی تھی۔

پہلے میری دنیا میں میرے خواب رہتے تھے۔

اب میری دنیا میں اس کی دعائیں تھیں۔

پہلے میں اپنے لیے جیتی تھی۔

اب اس کی آسانیوں کے لیے۔

اور مجھے اس پر کوئی افسوس بھی نہیں تھا۔

محبت شاید یہی تو ہے...

اپنی خوشیوں کو کسی دوسرے کی راحت میں تلاش کرنا۔

مگر...

ہر محبت کے اندر ایک سوال جنم لیتا ہے۔

وہ سوال بہت آہستہ آہستہ دل میں اترتا ہے۔

اتنا آہستہ...

کہ انسان کو خود بھی خبر نہیں ہوتی۔

وہ سوال بھی میرے اندر اترنے لگا تھا۔

اگر میں ایک دن نہ رہوں...

تو کیا فرق پڑے گا؟

کیا کوئی میری کمی محسوس کرے گا؟

کیا کسی کی دعا میں میری جگہ خالی ہوگی؟

یا...

زندگی ویسے ہی چلتی رہے گی؟

میں نے اس خیال کو جھٹک دیا۔

خود کو سمجھایا۔

"یہ شیطان کے وسوسے ہیں۔"

لیکن کچھ سوال...

وسوسے نہیں ہوتے۔

وہ وقت کی آہٹ ہوتے ہیں۔

اسی رات...

میں نے سجدے میں بہت دیر تک دعا کی۔

پھر اچانک میرے لبوں پر ایک عجیب سی دعا آ گئی۔

"یا اللہ...

اگر میں کسی کی زندگی میں صرف ایک ضرورت ہوں...

تو مجھے اتنا صبر دے کہ میں شکایت نہ کروں۔

اور اگر کبھی میری محبت میری عزتِ نفس سے بڑی ہونے لگے...

تو مجھے خود سے ملوا دینا۔"

یہ دعا کرتے ہوئے...

میں خود بھی نہیں جانتی تھی...

کہ آنے والے دن...

مجھے اسی دعا کا مطلب سمجھانے والے ہیں۔

اس رات میں نے پہلی بار محسوس کیا...

محبت میں سب سے بڑی آزمائش جدائی نہیں ہوتی۔

بلکہ...

یہ جان لینا ہوتا ہے...

کہ تم جسے اپنی پوری دنیا سمجھتے رہے...

وہ تمہیں اپنی دنیا کا مرکز نہیں سمجھتا۔

یہ احساس...

چیختا نہیں۔

یہ صرف خاموشی سے...

دل کے ایک کونے میں بیٹھ جاتا ہے۔

اور پھر...

انسان ہنستا بھی ہے...

باتیں بھی کرتا ہے...

لوگوں میں رہتا بھی ہے...

مگر اس کے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔

بابِ چہارم کا اختتام

"جس دن محبت اپنے وجود کی قیمت پوچھنے لگے... سمجھ لینا، دل کو پہلی بار اپنی تنہائی کا احساس ہوا ہے۔"

— جاری ہے... 🌿📖

بابِ پنجم

حقیقت

"عورت کو سب سے زیادہ اس دن رونا نہیں آتا، جس دن اسے دکھ ملتا ہے... بلکہ اس دن، جب اسے اپنی حیثیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔"

حقیقت...

یہ لفظ بہت چھوٹا ہے۔

مگر جب زندگی اسے سمجھاتی ہے...

تو انسان کی پوری دنیا بدل جاتی ہے۔

میں نے ہمیشہ یہی سمجھا تھا...

محبت کا مطلب ایک دوسرے کے لیے جینا ہوتا ہے۔

مگر پھر آہستہ آہستہ مجھے احساس ہوا...

ہر انسان محبت کو ایک جیسا نہیں جیتا۔

کسی کے لیے محبت...

سانس کی طرح ہوتی ہے۔

اور کسی کے لیے...

صرف زندگی کا ایک حصہ۔

فرق صرف اتنا تھا...

میں نے اسے اپنی پوری زندگی بنا لیا تھا۔

اور شاید...

میں اس کی پوری زندگی کبھی نہ بن سکی۔

وقت گزر رہا تھا۔

دن بدلتے رہے۔

مہینے گزرتے رہے۔

زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہی۔

مگر میرے اندر ایک خاموش تبدیلی جنم لے رہی تھی۔

اب میں اس کی ہر بات سنتی تو ضرور تھی...

مگر ان لفظوں کے پیچھے چھپی ترجیحات بھی سننے لگی تھی۔

انسان صرف یہ نہیں بتاتا...

کہ وہ کس سے محبت کرتا ہے۔

وہ یہ بھی بتا دیتا ہے...

کہ اسے کس کی فکر سب سے زیادہ ہے۔

اور فکر...

محبت کی سب سے سچی زبان ہوتی ہے۔

جس کے لیے انسان بےچین ہو...

جس کے لیے وقت نکالے...

جس کے لیے دل میں خوف رکھے...

اصل مقام وہیں ہوتا ہے۔

باقی...

الفاظ تو بہت خوبصورت ہوتے ہیں۔

مجھے کسی سے شکوہ نہیں تھا۔

شکوہ تو تب ہوتا...

جب حق مانگا جاتا۔

میں نے تو کبھی حق مانگا ہی نہیں تھا۔

میں صرف...

احساس چاہتی تھی۔

وہ احساس...

جس میں انسان یہ محسوس کرے...

کہ اس کے ہونے سے کسی کی دنیا مکمل ہوتی ہے۔

لیکن ایک دن...

مجھے پہلی بار محسوس ہوا...

کچھ لوگ تمہیں کھونے سے نہیں ڈرتے۔

کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے...

تم کہیں نہیں جاؤ گی۔

اور یقین...

جب قدر میں نہ بدلے...

تو آہستہ آہستہ بےنیازی بن جاتا ہے۔

اس شام میں کافی دیر تک آئینے کے سامنے بیٹھی رہی۔

میں نے خود کو غور سے دیکھا۔

چہرہ پہلے جیسا ہی تھا۔

مگر آنکھوں میں ایک عجیب سی تھکن اتر آئی تھی۔

یہ جسم کی تھکن نہیں تھی۔

یہ روح کی تھکن تھی۔

وہ تھکن...

جو بار بار خود کو سمجھانے سے پیدا ہوتی ہے۔

میں نے اپنے عکس سے پوچھا...

"اگر محبت میں ہمیشہ خود ہی خود کو سمجھانا پڑے...

تو کیا وہ محبت رہ جاتی ہے؟"

آئینہ خاموش تھا۔

جیسے ہمیشہ رہتا ہے۔

آئینے کبھی فیصلے نہیں کرتے...

وہ صرف حقیقت دکھاتے ہیں۔

مجھے اس دن پہلی بار سمجھ آیا...

کہ بعض اوقات...

انسان کسی کی زندگی میں بہت عزیز ہوتا ہے۔

لیکن...

سب سے اہم نہیں۔

وہ محبت تو پاتا ہے...

مگر پہلی ترجیح نہیں بنتا۔

وہ عزت ضرور پاتا ہے...

مگر وہ بےچینی نہیں...

جو کسی کو کھو دینے کے خوف سے پیدا ہوتی ہے۔

اور یہی فرق...

آہستہ آہستہ دل کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔

کیونکہ عورت...

محبت کے لفظوں پر نہیں جیتی۔

وہ فکر پر جیتی ہے۔

وہ اس ایک سوال پر جیتی ہے...

"تم نے کھانا کھایا؟"

"تم تھک تو نہیں گئی؟"

"تم ٹھیک ہو؟"

یہ چھوٹے چھوٹے سوال...

عورت کے لیے پوری دنیا ہوتے ہیں۔

اس رات...

میں نے بہت دیر تک سجدہ کیا۔

مگر اس بار...

میں نے کچھ نہیں مانگا۔

صرف خاموش بیٹھی رہی۔

پھر نہ جانے کیسے...

میرے دل سے ایک جملہ نکلا۔

"یا اللہ...

مجھے کسی کے دل میں سب سے اونچا مقام نہ دے...

بس اتنی عزت دے...

کہ میری خاموشی کو کبھی میری مجبوری نہ سمجھا جائے۔"

یہ کہتے ہی...

میرے آنسو سجدے کی جگہ پر گرنے لگے۔

اور پہلی بار...

میں نے اپنے آنسو نہیں پونچھے۔

کیونکہ کچھ آنسو...

انسان نہیں پونچھتا۔

اللہ خود ان کا حساب رکھتا ہے۔

اس رات...

مجھے نیند نہیں آئی۔

میں کھڑکی کے پاس بیٹھی رہی۔

چاند آسمان پر پورا تھا۔

مگر نہ جانے کیوں...

مجھے لگا...

کچھ چاند...

پورے ہو کر بھی ادھورے ہوتے ہیں۔

شاید...

میرے دل کی طرح۔

بابِ پنجم کا اختتام

"عورت کو محبت کی کمی نہیں توڑتی... اسے یہ احساس توڑ دیتا ہے کہ اس کی خاموش وفا کو کسی نے اپنی پہلی فکر نہیں بنایا۔"

— جاری ہے...

بابِ ششم

خاموشی بھی ایک زبان ہوتی ہے

"ہر خاموش انسان بےحس نہیں ہوتا... بعض لوگ اتنا کچھ کہہ چکے ہوتے ہیں کہ پھر لفظ ان کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔"

مجھے ہمیشہ لگتا تھا...

خاموش رہنا آسان ہوتا ہوگا۔

بولنے سے تو انسان تھک جاتا ہے۔

مگر پھر ایک دن...

زندگی نے سکھایا...

خاموش رہنا...

بولنے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

کیونکہ لفظ صرف زبان سے ادا ہوتے ہیں...

اور خاموشی...

روح سے۔

اس دن بھی سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔

سورج ہمیشہ کی طرح نکلا تھا۔

پرندے ہمیشہ کی طرح اپنے رزق کی تلاش میں نکل گئے تھے۔

لوگ اپنے کاموں میں مصروف تھے۔

گھڑی کی سوئیاں بھی ویسے ہی چل رہی تھیں۔

بدلا تھا تو صرف...

میرا اندر۔

عجیب بات ہے...

باہر کی دنیا کو کبھی خبر نہیں ہوتی...

کہ کسی انسان کے اندر ابھی ابھی ایک پورا شہر ویران ہوا ہے۔

میں نے اس دن پہلی بار خود کو خاموش رہنے پر مجبور نہیں کیا تھا۔

میں واقعی خاموش ہو گئی تھی۔

کیونکہ مجھے احساس ہو گیا تھا...

بعض سوال...

جواب نہیں مانگتے۔

وہ صرف دل کو زخمی کرتے ہیں۔

پہلے میں ہر بات دل میں رکھ نہیں پاتی تھی۔

اگر دکھ ہوتا...

تو آنکھیں بول دیتیں۔

اگر خوشی ہوتی...

تو چہرہ چھپا نہیں پاتا تھا۔

اب...

میں نے مسکرانا سیکھ لیا تھا۔

وہ مسکراہٹ...

جو صرف دوسروں کو مطمئن رکھنے کے لیے ہوتی ہے۔

لوگ اکثر کہتے...

"تم بہت مضبوط ہو۔"

میں ہر بار مسکرا دیتی۔

کاش...

انہیں معلوم ہوتا...

مضبوط لوگ پیدا نہیں ہوتے۔

انہیں حالات...

آہستہ آہستہ پتھر بنا دیتے ہیں۔

میں نے ایک دن اپنی ڈائری میں لکھا...

"محبت میں سب سے پہلے آواز نہیں مرتی...

سب سے پہلے شکایت مر جاتی ہے۔"

کیونکہ انسان...

جس سے امید رکھتا ہے...

اسی سے شکوہ کرتا ہے۔

اور جب امید ہی دم توڑ دے...

تو شکوہ بھی خاموش ہو جاتا ہے۔

اس شام...

میں حسبِ معمول کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی۔

بارش ہونے والی تھی۔

بادل آسمان پر خاموش کھڑے تھے۔

میں نے سوچا...

بادل بھی عجیب ہوتے ہیں۔

جب تک بھرے رہتے ہیں...

بھاری رہتے ہیں۔

اور جب برس جاتے ہیں...

ہلکے ہو جاتے ہیں۔

انسان بھی شاید ایسا ہی ہوتا ہے۔

فرق صرف اتنا ہے...

بادل برس سکتے ہیں۔

ہر انسان نہیں۔

کتنی ہی بار ایسا ہوا...

کہ میں نے دل میں سینکڑوں جملے ترتیب دیے۔

سوچا...

آج کہہ دوں گی۔

آج اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لوں گی۔

مگر جب وہ لمحہ آیا...

میرے لبوں پر صرف ایک جملہ آیا...

"آپ نے کھانا کھایا؟"

اور میں خود اپنی خاموشی پر حیران رہ گئی۔

شاید...

محبت یہی کرتی ہے۔

وہ انسان کو اپنے درد سے پہلے...

دوسرے کی ضرورت یاد دلاتی ہے۔

مگر اس رات...

پہلی بار میرے دل نے مجھ سے سوال کیا۔

"کیا تمہیں کبھی کسی نے اس طرح پوچھا...؟"

"تم نے کھانا کھایا؟"

میں بہت دیر تک سوچتی رہی۔

یاد کرنے کی کوشش کی۔

اور پھر...

میری آنکھیں بند ہو گئیں۔

کیونکہ جواب...

خاموش تھا۔

مجھے اس دن سمجھ آیا...

عورت محبت کے بڑے بڑے وعدوں سے نہیں جیتی۔

وہ چھوٹے چھوٹے خیالوں پر زندہ رہتی ہے۔

ایک پیغام...

ایک دعا...

ایک فکر...

ایک سوال...

"تم ٹھیک ہو؟"

یہ چار لفظ...

کبھی کبھی پوری دنیا سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔

رات بہت گزر چکی تھی۔

گھر میں مکمل سکوت تھا۔

میں جائے نماز پر بیٹھی تھی۔

سجدہ کیا...

مگر دعا نہیں مانگی۔

صرف خاموش بیٹھی رہی۔

پھر دل سے ایک آہ نکلی۔

"یا اللہ...

اگر میری خاموشی میری رضا ہے...

تو اسے قبول فرما۔

اور اگر یہ میری کمزوری ہے...

تو مجھے اتنی ہمت دے...

کہ میں اپنے دل کی عزت کرنا سیکھ جاؤں۔"

سجدے سے سر اٹھایا...

تو آنسو رخساروں تک پہنچ چکے تھے۔

مگر عجیب بات تھی...

اس رات میں ٹوٹی نہیں۔

میں صرف...

تھک گئی تھی۔

صبح جب سورج نکلا...

میں نے آئینے میں خود کو دیکھا۔

آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔

مگر ان میں ایک نئی چیز تھی۔

قبولیت۔

شاید...

میں نے اپنی خاموشی کو قبول کرنا شروع کر دیا تھا۔

بابِ ششم کا اختتام

"خاموش رہنے والے ہمیشہ کمزور نہیں ہوتے... بعض اوقات وہ اپنے دل کی آخری عزت بچا رہے ہوتے ہیں۔"

— جاری ہے...



بابِ ہفتم

آئینہ

"آئینہ صرف چہرہ نہیں دکھاتا... بعض اوقات وہ انسان کو اس کی برسوں سے چھپی ہوئی حقیقت بھی دکھا دیتا ہے۔"

آج نہ جانے کیوں...

میں بہت دیر تک آئینے کے سامنے کھڑی رہی۔

میں خود کو نہیں دیکھ رہی تھی...

میں اُس عورت کو تلاش کر رہی تھی...

جو کبھی میری آنکھوں میں رہتی تھی۔

وہ لڑکی...

جسے بارشیں پسند تھیں۔

جو بےوجہ مسکرا دیتی تھی۔

جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتی تھی۔

جو آئینے میں خود کو دیکھ کر کہتی تھی...

"اللہ نے مجھے جیسے بھی بنایا ہے، میں اس پر راضی ہوں۔"

پھر نہ جانے کب...

زندگی نے میرے چہرے پر مسکراہٹ تو رہنے دی...

مگر آنکھوں سے وہ چمک چرا لی۔

میں نے آئینے سے پوچھا...

"کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟"

آئینہ خاموش رہا۔

وہ ہمیشہ خاموش رہتا ہے۔

کیونکہ آئینے کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔

وہ صرف وہی دکھاتے ہیں...

جسے انسان دیکھنے سے ڈرتا ہے۔

میں نے اپنے چہرے کو غور سے دیکھا۔

کچھ جھریاں نہیں تھیں...

مگر انتظار کے نشان تھے۔

آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے نہیں تھے...

مگر کئی بےخواب راتوں کی کہانیاں تھیں۔

ہونٹ ویسے ہی تھے...

لیکن ان پر برسوں سے کوئی بےساختہ ہنسی نہیں آئی تھی۔

مجھے یاد آیا...

کبھی میں خود سے بہت محبت کرتی تھی۔

اپنی کتابوں سے...

اپنے خوابوں سے...

اپنی دعاؤں سے...

اپنی ذات سے...

پھر ایک دن...

میں نے اپنی پوری دنیا ایک انسان کے گرد سجا دی۔

اور آہستہ آہستہ...

میری اپنی دنیا خالی ہوتی گئی۔

اس دن پہلی بار مجھے احساس ہوا...

محبت اگر انسان کو اپنے رب کے قریب لے جائے تو نعمت ہے۔

اور اگر وہ انسان کو اپنی ذات سے دور کر دے...

تو آزمائش بن جاتی ہے۔

میں نے اپنی ہتھیلی آئینے پر رکھ دی۔

یوں لگا...

جیسے دوسری طرف کوئی اور عورت کھڑی ہو۔

وہ مجھ سے کہنے لگی...

"کب تک خود کو بھولتی رہو گی؟"

"کب تک اپنی ہر خواہش کو خاموش کرتی رہو گی؟"

"کب تک اپنے دل کو یہ سمجھاتی رہو گی کہ یہی محبت ہے؟"

میں نے نظریں جھکا لیں۔

میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

ہم عورتیں عجیب ہوتی ہیں۔

ہمیں اگر ایک چھوٹا سا پھول بھی محبت سے مل جائے...

تو ہم پوری بہار اس ایک پھول میں تلاش کرنے لگتی ہیں۔

ہمیں اگر ایک سچا جملہ مل جائے...

تو ہم برسوں اس کی روشنی میں جیتی رہتی ہیں۔

اور اگر وہ جملہ بدل جائے...

تو ہم خود کو بدلنے لگتی ہیں۔

حالانکہ...

بدلنا ہمیں نہیں ہوتا۔

میں نے اس دن اپنی پرانی ڈائری کھولی۔

پہلے صفحے پر لکھا تھا:

"اے اللہ! میری قسمت میں ایسا انسان لکھنا...جس کے ساتھ رہ کر میں تیرے اور قریب ہو جاؤں۔"

میں دیر تک اس دعا کو دیکھتی رہی۔

پھر بےاختیار مسکرا دی۔

شاید...

اللہ نے میری دعا قبول کی تھی۔

کیونکہ اس سفر نے مجھے انسانوں سے زیادہ...

اپنے رب کی ضرورت سکھا دی تھی۔

شام ڈھل رہی تھی۔

کھڑکی سے سورج کی آخری کرن میرے کمرے میں داخل ہوئی۔

وہ سیدھی آئینے پر پڑی۔

اور پھر میرے چہرے پر۔

میں نے پہلی بار محسوس کیا...

روشنی ہمیشہ باہر سے نہیں آتی۔

بعض اوقات...

وہ انسان کے اندر بھی جنم لیتی ہے۔

بس...

اسے اپنی ہی آنکھوں سے دیکھنے میں وقت لگ جاتا ہے۔

میں نے آئینے سے آخری بار کہا...

"آج کے بعد میں خود کو کسی کی نظر سے نہیں دیکھوں گی۔"

"میں خود کو اپنے رب کی نظر سے دیکھوں گی..."

وہ رب...

جس نے مجھے بےقیمت نہیں بنایا۔

جس نے مجھے محبت کے لیے پیدا کیا...

مگر خود کو مٹا دینے کے لیے نہیں۔

اس رات...

برسوں بعد...

میں نے سونے سے پہلے خود کو معاف کیا۔

اس عورت کو بھی...

جو محبت میں خود کو بھول بیٹھی تھی۔

اور اس لڑکی کو بھی...

جو ابھی تک کہیں میرے اندر زندہ تھی۔

بابِ ہفتم کا اختتام

"جس دن عورت آئینے میں اپنا چہرہ نہیں، اپنی قدر دیکھنا شروع کر دے... اسی دن اس کی نئی زندگی کا آغاز ہو جاتا ہے۔"

✍️ فرحت یاسر


بابِ ہشتم

واپسی

"کچھ لوگ ہماری زندگی سے چلے جاتے ہیں... مگر ان کی دی ہوئی یادیں کہیں نہیں جاتیں۔ وہ کسی خاموش موسم کی طرح ہمارے اندر موجود رہتی ہیں، اور پھر ایک دن اچانک واپس آ جاتی ہیں۔"

اگلی صبح جب میری آنکھ کھلی تو عجیب سا سکون تھا۔

وہ سکون نہیں...جو خوشی کے بعد ملتا ہے۔

بلکہ وہ...جو بہت رو لینے کے بعد دل میں اترتا ہے۔

میں کچھ دیر چھت کو دیکھتی رہی۔

رات کو آئینے کے سامنے کھڑی عورت...آج مجھے کچھ مختلف محسوس ہو رہی تھی۔

شاید چہرہ وہی تھا۔

مگر نظر بدل گئی تھی۔

میں بستر سے اٹھی، پردے ہٹائے اور کھڑکی کھول دی۔

باہر صبح اپنی پوری روشنی کے ساتھ موجود تھی۔

درختوں کے پتے ہوا سے ہل رہے تھے۔

دور کسی گھر سے قرآنِ پاک کی تلاوت کی آواز آ رہی تھی۔

میں نے آنکھیں بند کر لیں۔

اور دل ہی دل میں کہا:

"یا اللہ... اگر یہ میری نئی شروعات ہے تو مجھے دوبارہ وہی غلطیاں نہ کرنے دینا۔"

میں نے وضو کیا۔

نماز پڑھی۔

اور کافی عرصے بعد سجدے میں جانے سے پہلے مجھے کسی انسان کا خیال نہیں آیا۔

صرف اللہ کا۔

شاید یہی میری اصل واپسی تھی۔

خود کی طرف نہیں...

اپنے رب کی طرف۔

نماز کے بعد میں نے وہی پرانی ڈائری دوبارہ کھولی۔

پتا نہیں کیوں...

آج دل چاہ رہا تھا کہ اس کے آخری صفحات دیکھوں۔

صفحات پلٹتے پلٹتے میری انگلی ایک جگہ رک گئی۔

ایک صفحہ...

جس پر کچھ لکھا تھا۔

مگر وہ میری لکھائی نہیں تھی۔

میں چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔

میرا دل اچانک زور سے دھڑکا۔

صفے کے اوپر صرف ایک جملہ لکھا تھا:

"اگر کبھی تمہیں لگے کہ سب ختم ہو گیا ہے... تو یہ سمجھ لینا کہ کہانی ابھی باقی ہے۔"

میں نے ڈائری بند کر دی۔

نہیں...

یہ ممکن نہیں تھا۔

میں نے دوبارہ اسے کھولا۔

وہی الفاظ۔

وہی سیاہی۔

وہی تحریر۔

اور پھر...

مجھے وہ رات یاد آ گئی۔

وہ رات جسے میں برسوں سے بھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔

وہ شخص...

وہ آخری ملاقات...

اور وہ آخری جملہ:

"میں واپس آؤں گا۔"

میں نے ہمیشہ سمجھا تھا کہ وہ صرف ایک وعدہ تھا۔

ایک ایسا وعدہ...

جس کا پورا ہونا کبھی ممکن نہیں تھا۔

لیکن آج پہلی بار میرے دل میں ایک سوال پیدا ہوا۔

اگر وہ واپس آ گیا تو؟

میں نے فوراً خود کو روکا۔

"نہیں۔"

میں نے خود سے کہا۔

"ماضی کو واپس آنے کا حق نہیں۔"

لیکن دل...

دل کب دلیل سنتا ہے؟

اسی وقت میرا فون بجا۔

اسکرین پر ایک نام دیکھ کر میرے ہاتھ رک گئے۔

کئی سالوں سے یہ نام میرے فون میں موجود نہیں تھا۔

اور پھر بھی...

میں اسے پہچان گئی۔

Unknown Number

صرف ایک پیغام تھا۔

میں نے کانپتی انگلیوں سے اسے کھولا۔

"کیا تم اب بھی بارش میں بھیگنا پسند کرتی ہو؟"

میری سانس جیسے رک گئی۔

یہ سوال...

یہ وہی سوال تھا جو کبھی صرف ایک شخص پوچھا کرتا تھا۔

میں نے فون نیچے رکھ دیا۔

کمرے میں اچانک خاموشی پھیل گئی۔

مجھے لگا جیسے وقت رک گیا ہو۔

پھر ایک اور پیغام آیا۔

"مجھے معلوم ہے تم نے مجھے بھلا دیا ہے... مگر میں نے تمہیں کبھی نہیں بھلایا۔"

میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

نہیں...

میں اسے بھولی نہیں تھی۔

میں نے صرف اپنے دل کو یہ سکھایا تھا کہ اسے یاد کرنا منع ہے۔

میں کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔

باہر آسمان بالکل صاف تھا۔

مگر میرے اندر...

پھر سے بارش شروع ہو چکی تھی۔

میں نے فون ہاتھ میں لیا۔

کچھ لکھنے لگی۔

پھر مٹا دیا۔

دوبارہ لکھا۔

پھر مٹا دیا۔

آخرکار صرف ایک سوال لکھا:

"تم کون ہو؟"

میری انگلی send کے بٹن پر رک گئی۔

دل کہہ رہا تھا...

مت بھیجو۔

عقل کہہ رہی تھی...

سچ جاننا ضروری ہے۔

اور پھر...

میں نے send کر دیا۔

کچھ لمحے کوئی جواب نہیں آیا۔

پھر فون کی اسکرین روشن ہوئی۔

ایک نیا پیغام تھا۔

میں نے اسے کھولا۔

اور صرف ایک جملہ پڑھ کر میری دنیا جیسے ایک بار پھر بدل گئی۔

"میں وہی ہوں... جسے تم نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا نقصان سمجھ کر دفن کر دیا تھا۔"

میرے ہاتھ سے فون چھوٹ کر زمین پر گر گیا۔

میں دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔

آنکھیں بند کر لیں۔

کچھ زخم بھر نہیں جاتے۔

ہم صرف ان کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں۔

اور بعض اوقات...

زندگی ہمیں اسی زخم کے سامنے دوبارہ لا کھڑا کرتی ہے۔

تاکہ ہم فیصلہ کر سکیں...

کہ ہمیں ماضی میں واپس جانا ہے...

یا اس سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہونا ہے۔

میں نے آنکھیں کھولیں۔

آئینہ سامنے تھا۔

وہی آئینہ...

جس کے سامنے میں نے کل خود سے ایک وعدہ کیا تھا۔

"آج کے بعد میں خود کو کسی کی نظر سے نہیں دیکھوں گی۔"

میں آہستہ سے اٹھی۔

آئینے کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی۔

اور پہلی بار مجھے خوف نہیں آیا۔

میں نے اپنے عکس کو دیکھا اور دھیرے سے کہا:

"اگر ماضی واپس آیا ہے... تو اس بار فیصلہ میں کروں گی۔"

کیونکہ اب...

میں وہ عورت نہیں تھی جو کل تھی۔

اور شاید...

یہی زندگی کا اصل امتحان تھا۔

کبھی کبھی انسان کو وہ چیز دوبارہ ملتی ہے...

جس کے لیے اس نے برسوں دعا کی ہوتی ہے۔

لیکن تب...

وہ یہ نہیں جانتا کہ وہ چیز واقعی اس کی حاجت تھی...

یا صرف اس کی خواہش۔

اور شاید...

اسی فرق کا نام تھا...

لا حاصل۔


بابِ ہشتم کا اختتام

"ہر واپسی محبت کی واپسی نہیں ہوتی... بعض واپسی صرف یہ بتانے آتی ہیں کہ تم نے آخرکار خود کو کتنا بدل لیا ہے۔"

✍️ فرحت یاسر

بابِ نہم

وہ شخص

"کبھی کبھی ہم کسی شخص کو بھولنے میں پوری زندگی لگا دیتے ہیں... اور پھر ایک دن وہ صرف ایک جملے کے ساتھ ہماری تمام بھولی ہوئی یادیں واپس لے آتا ہے۔"

اس رات میں سو نہیں سکی۔

بار بار فون اٹھاتی۔

اسکرین دیکھتی۔

پھر اسے میز پر رکھ دیتی۔

کوئی نیا پیغام نہیں آیا تھا۔

لیکن عجیب بات یہ تھی کہ خاموش فون بھی مجھے شور محسوس ہو رہا تھا۔

میرے اندر بہت کچھ بول رہا تھا۔

وہ کون تھا؟

اسے میرا نمبر کہاں سے ملا؟

اسے اتنے سال بعد میرے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟

اور سب سے بڑا سوال...

وہ واپس کیوں آیا تھا؟

میں نے خود کو سمجھایا کہ شاید یہ کوئی مذاق ہے۔

شاید کوئی مجھے جانتا ہے۔

شاید کسی نے پرانی باتیں یاد کرکے مجھے پریشان کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لیکن دل...

دل ایک ہی بات کہہ رہا تھا۔

یہ وہی ہے۔

وہی شخص...

جسے میں نے اپنی زندگی کے ایک ایسے باب میں چھوڑ دیا تھا جہاں سے واپس جانا ممکن نہیں تھا۔

صبح ہوئی تو میں نے فیصلہ کر لیا۔

میں اس نمبر پر دوبارہ کوئی جواب نہیں دوں گی۔

جو گزر گیا...

اسے گزر جانے دینا ہی بہتر ہے۔

میں نے فون اٹھایا۔

وہ نمبر delete کرنے لگی۔

پھر اچانک ایک تصویر موصول ہوئی۔

میرے ہاتھ رک گئے۔

تصویر میں ایک پرانی جگہ تھی۔

وہی چھوٹا سا باغ...

وہی لکڑی کی بینچ...

اور پیچھے وہی درخت۔

میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

یہ وہ جگہ تھی جہاں ہم آخری بار ملے تھے۔

مجھے یاد تھا...

اس دن بارش ہو رہی تھی۔

وہ میرے سامنے کھڑا تھا۔

آنکھوں میں غصہ نہیں تھا۔

صرف بے بسی تھی۔

اس نے کہا تھا:

"اگر میں چلا گیا تو کیا تم میرا انتظار کرو گی؟"

میں نے جواب نہیں دیا تھا۔

صرف آنکھیں جھکا لی تھیں۔

اور شاید...

میری خاموشی ہی میرا جواب بن گئی تھی۔

اس کے بعد وہ چلا گیا۔

اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔

میں نے تصویر کو دیکھا۔

نیچے صرف ایک جملہ لکھا تھا:

"آج شام پانچ بجے۔ وہیں۔"

میں نے فون بند کر دیا۔

نہیں۔

میں وہاں نہیں جاؤں گی۔

میں نے خود سے وعدہ کیا تھا۔

مگر پورا دن گزرنے کے ساتھ ساتھ...

میرے اندر ایک جنگ چلتی رہی۔

عقل کہتی تھی:

"مت جاؤ۔"

دل پوچھتا تھا:

"اگر یہ واقعی آخری موقع ہو تو؟"

پانچ بجنے میں صرف چند منٹ باقی تھے۔

میں نے آئینے میں خود کو دیکھا۔

کل میں نے اسی آئینے سے کہا تھا کہ اب میں اپنے فیصلے خود کروں گی۔

تو آج...

فیصلہ بھی مجھے ہی کرنا تھا۔

میں نے چادر لی۔

اور گھر سے نکل گئی۔

جب میں وہاں پہنچی تو سورج ڈوبنے والا تھا۔

باغ تقریباً خالی تھا۔

وہی پرانی بینچ...

وہی درخت...

اور وہی خاموشی۔

میں کچھ فاصلے پر کھڑی رہی۔

پانچ بج کر دس منٹ ہو گئے۔

پندرہ منٹ۔

بیس منٹ۔

کوئی نہیں آیا۔

میرے دل نے کہا:

"دیکھا؟ تمہیں دوبارہ دھوکا دیا گیا۔"

میں واپس مڑنے لگی۔

تبھی پیچھے سے ایک آواز آئی۔

"تم اب بھی انتظار نہیں کرتیں۔"

میرے قدم وہیں رک گئے۔

وہ آواز...

میں نے برسوں سے نہیں سنی تھی۔

لیکن انسان کچھ آوازیں کبھی نہیں بھولتا۔

میں نے آہستہ سے پلٹ کر دیکھا۔

وہ چند قدم دور کھڑا تھا۔

بال پہلے سے مختلف تھے۔

چہرے پر وقت کے نشان تھے۔

آنکھیں...

وہی آنکھیں۔

وہ مجھے دیکھ رہا تھا۔

اور میں اسے۔

ہم دونوں کے درمیان کئی سال کھڑے تھے۔

کئی سوال۔

کئی شکایتیں۔

کئی خاموشیاں۔

آخرکار اس نے کہا:

"کیسی ہو؟"

میرے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آئی۔

میں نے جواب دیا:

"یہ سوال تمہیں آج یاد آیا؟"

وہ خاموش رہا۔

میں نے کہا:

"تم نے مجھے کیوں بلایا؟"

اس نے نظریں جھکا لیں۔

"کیونکہ مجھے تم سے معافی مانگنی تھی۔"

میں ہنس دی۔

وہ ہنسی خوشی کی نہیں تھی۔

"معافی؟"

میں نے اسے دیکھا۔

"کچھ چیزیں معافی سے واپس نہیں آتیں۔"

اس نے آہستہ سے کہا:

"مجھے معلوم ہے۔"

پھر کچھ دیر خاموش رہ کر بولا:

"لیکن تمہیں ایک سچ جاننے کا حق ہے۔"

میرا دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔

"کون سا سچ؟"

اس نے میری طرف دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں وہی درد تھا جسے میں کبھی سمجھ نہیں پائی تھی۔

"میں تمہیں چھوڑ کر اپنی مرضی سے نہیں گیا تھا۔"

میرے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔

میں نے دھیرے سے پوچھا:

"تو پھر؟"

وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اچانک اس کا فون بج اٹھا۔

اس نے اسکرین دیکھی۔

اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

اس نے کال کاٹ دی۔

میں نے پوچھا:

"کون تھا؟"

اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

میں نے دوبارہ پوچھا:

"کون تھا؟"

اس نے میری طرف دیکھا۔

پھر بہت آہستہ سے کہا:

"وہی شخص... جس کی وجہ سے میں تم سے دور ہوا تھا۔"

میرے ذہن میں جیسے کئی دروازے ایک ساتھ کھل گئے۔

"کون؟"

وہ خاموش رہا۔

میں نے ایک قدم آگے بڑھ کر کہا:

"مجھے سچ بتاؤ۔"

اس نے آنکھیں بند کیں۔

اور پھر...

اس نے وہ نام لیا۔

وہ نام سنتے ہی میرے قدموں کے نیچے سے جیسے زمین نکل گئی۔

کیونکہ وہ شخص...

میرے ماضی کا حصہ نہیں تھا۔

وہ...

میرے حال کا حصہ تھا۔

میں اسے دیکھتی رہ گئی۔

وہ شاید میرے چہرے پر پھیلی حیرت پڑھ چکا تھا۔

اس نے صرف اتنا کہا:

"اب تم سمجھو گی کہ میں اتنے سال خاموش کیوں رہا۔"

اور میں...

پہلی بار ڈر گئی۔

ماضی سے نہیں۔

بلکہ اس سچ سے...

جو میرے سامنے کھڑا تھا۔

بابِ نہم کا اختتام

"کچھ راز ماضی میں دفن نہیں ہوتے... وہ خاموشی سے ہمارے حال میں سانس لیتے رہتے ہیں۔"

✍️ فرحت یاسر

بابِ دہم

سچ

"سچ ہمیشہ سکون نہیں دیتا... کبھی کبھی وہ انسان کے بنائے ہوئے پورے یقین کو توڑ دیتا ہے۔"

وہ نام...

میرے کانوں میں گونج رہا تھا۔

یاسر۔

میں نے ایک لمحے کے لیے سوچا شاید میں نے غلط سنا ہے۔

مگر نہیں۔

اس نے دوبارہ وہی نام لیا تھا۔

میرے موجودہ شوہر کا نام۔

وہ شخص جس کے ساتھ میں اپنی زندگی کے کئی سال گزار چکی تھی۔

وہ شخص جسے میں اپنی زندگی کا سکون سمجھتی تھی۔

اور آج...

میرے ماضی کا ایک دروازہ کھول کر میرے سامنے کھڑا یہ شخص کہہ رہا تھا کہ...

وہی میری اور اس کے درمیان فاصلے کی وجہ تھا۔

میں نے اسے گھور کر دیکھا۔

"تم جھوٹ بول رہے ہو۔"

میری آواز بہت دھیمی تھی۔

مگر اس میں یقین تھا۔

اس نے سر نہیں اٹھایا۔

"کاش میں جھوٹ بول رہا ہوتا۔"

میرے دل نے ایک بار پھر انکار کیا۔

"یاسر مجھے جانتا بھی نہیں تھا اُس وقت۔"

وہ خاموش رہا۔

پھر بولا:

"تمہیں ایسا لگتا ہے۔"

میں نے فوراً پوچھا:

"تو حقیقت کیا ہے؟"

اس نے اپنی جیب سے ایک پرانا لفافہ نکالا۔

لفافہ زرد پڑ چکا تھا۔

کنارے وقت کے ساتھ مڑ گئے تھے۔

اس نے وہ لفافہ میری طرف بڑھا دیا۔

"یہ تمہارے لیے تھا۔"

میں نے لفافے کو دیکھا۔

میرے ہاتھ آگے نہیں بڑھے۔

"کب کا ہے؟"

"اُس رات کا..."

میری سانس رک گئی۔

اُس رات کا۔

وہ رات جس کے بارے میں میں نے خود کو برسوں یقین دلایا تھا کہ مجھے سب کچھ معلوم ہے۔

میں نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ لے لیا۔

اس پر میرا نام لکھا تھا۔

میری وہی پرانی شناخت...

وہی لکھائی۔

میں نے لفافہ کھولا۔

اندر ایک کاغذ تھا۔

صرف چند سطریں۔

میں نے پڑھنا شروع کیا۔

"اگر تم یہ خط پڑھ رہی ہو تو شاید میں تمہارے پاس نہیں ہوں گا۔مجھے معاف کر دینا۔میں نے تمہیں چھوڑا نہیں... مجھے تم سے دور کیا گیا ہے۔اور جس شخص نے یہ کیا ہے، تم اسے کبھی پہچان نہیں پاؤ گی۔"

میرے ہاتھ کانپنے لگے۔

نیچے کوئی نام نہیں تھا۔

صرف ایک تاریخ۔

وہی تاریخ...

جس دن وہ میری زندگی سے گیا تھا۔

میں نے کاغذ کو مٹھی میں بھینچ لیا۔

"تم نے یہ خط مجھے پہلے کیوں نہیں دیا؟"

وہ میری طرف دیکھنے لگا۔

"کیونکہ مجھے ڈر تھا۔"

"کس سے؟"

"اپنی جان سے نہیں..."

وہ رکا۔

"تمہاری زندگی سے۔"

میں خاموش ہو گئی۔

ہوا تیز ہو چکی تھی۔

درختوں کے پتے شور کر رہے تھے۔

لیکن میرے اندر اس سے بھی زیادہ شور تھا۔

میں نے پوچھا:

"یاسر نے کیا کیا تھا؟"

وہ فوراً بولا:

"میں نے یہ نہیں کہا کہ یاسر نے تمہیں مجھ سے جدا کیا۔"

میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔

"تو پھر تم نے اس کا نام کیوں لیا؟"

اس نے آہستہ سے جواب دیا:

"کیونکہ جس شخص نے ہمارے درمیان غلط فہمیاں پیدا کیں... وہ یاسر کو جانتا تھا۔"

میرا دل ڈوب گیا۔

"کون؟"

وہ پھر خاموش ہو گیا۔

میں نے اس کا بازو پکڑ لیا۔

"مجھے سچ چاہیے۔"

اس نے میری آنکھوں میں دیکھا۔

"سچ یہ ہے کہ تمہاری زندگی میں صرف ایک محبت نہیں تھی..."

وہ رکا۔

"...تمہارے گرد کئی لوگوں کے راز تھے۔"

میں نے ہاتھ چھوڑ دیا۔

اچانک مجھے اپنی زندگی کے کئی واقعات یاد آنے لگے۔

وہ فون کالز...

وہ جھوٹے پیغامات...

وہ اچانک پیدا ہونے والی غلط فہمیاں...

وہ خط جو کبھی مجھے نہیں ملا...

اور وہ رات...

جب میں نے سمجھا تھا کہ وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔

میں نے ہمیشہ خود کو قصوروار سمجھا تھا۔

شاید...

وہ قصوروار تھا ہی نہیں۔

میں نے آنکھیں بند کر لیں۔

آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

"تم نے اتنے سال مجھے یہ سب کیوں نہیں بتایا؟"

اس کی آواز ٹوٹ گئی۔

"کیونکہ جب مجھے حقیقت معلوم ہوئی... تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔"

"کتنی دیر؟"

"اتنی کہ تم کسی اور کی زندگی کا حصہ بن چکی تھیں۔"

میں نے نظریں اٹھائیں۔

وہ مجھے دیکھ رہا تھا۔

"اور میں نے سوچا..."

اس نے ایک گہری سانس لی۔

"کہ اگر میں واپس آیا تو شاید تمہاری زندگی برباد کر دوں گا۔"

میں نے تلخی سے پوچھا:

"اور اب؟"

اس نے میری طرف دیکھا۔

"اب مجھے لگتا ہے کہ تمہاری زندگی پہلے ہی ایک ایسے سچ کے ساتھ چل رہی ہے جس سے تم بےخبر ہو۔"

میں کچھ کہہ نہ سکی۔

میری نظر زمین پر پڑی۔

وہی زمین...

جہاں کبھی میں نے اپنے خواب دفن کیے تھے۔

میں نے آہستہ سے کہا:

"میں اب ماضی میں واپس نہیں جانا چاہتی۔"

اس نے سر ہلایا۔

"میں تمہیں واپس لینے نہیں آیا۔"

میں نے چونک کر اسے دیکھا۔

"تو پھر؟"

اس نے کہا:

"میں تمہیں صرف حقیقت بتانے آیا ہوں۔"

پھر وہ مڑا۔

چند قدم چل کر رکا۔

پیچھے مڑ کر مجھے دیکھا اور بولا:

"لیکن ایک بات یاد رکھنا..."

میں خاموش رہی۔

"جس دن تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ شخص کون تھا..."

وہ لمحہ بھر رکا۔

"شاید تمہیں اپنے سب سے قریبی انسان پر بھی یقین کرنا مشکل ہو جائے۔"

وہ چلا گیا۔

میں وہیں کھڑی رہ گئی۔

میرے ہاتھ میں وہ پرانا خط تھا۔

اور دل میں ایک سوال۔

اگر یاسر وہ شخص نہیں تھا...

تو پھر...

وہ کون تھا؟

میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔

شام مکمل طور پر رات میں بدل چکی تھی۔

اور پہلی بار مجھے محسوس ہوا...

کہ میری زندگی کی سب سے بڑی کہانی شاید محبت نہیں تھی۔

بلکہ...

سچ کی تلاش تھی۔

بابِ دہم کا اختتام

"کبھی کبھی اللہ ہمیں کسی انسان سے نہیں، ایک سچ سے ملانے کے لیے ماضی کا دروازہ دوبارہ کھولتا ہے۔"

✍️ فرحت یاسر

CONTINUE .........

Farhat Yasir




 
 
 

Comments


bottom of page